ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

🇺🇸 حزب اللہ ایران کے حکم پر مذاکرات سے انکار کر رہی ہے؛ امریکا کا سنگین الزام، لبنان سے فوری طور پر ہتھیار ترک کرنے کا مطالبہ

🇺🇸 حزب اللہ ایران کے حکم پر مذاکرات سے انکار کر رہی ہے؛ امریکا کا سنگین الزام، لبنان سے فوری طور پر ہتھیار ترک کرنے کا مطالبہ
Spread the love

واشنگٹن/بیروت/بین الاقوامی ڈیسک: امریکہ نے ایران کی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ پر سخت الزام عائد کیا ہے کہ وہ تہران کی براہِ راست ہدایات پر عمل کرتے ہوئے لبنانی حکومت، امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات سے جان بوجھ کر گریز کر رہی ہے۔

📌 امریکی سفارتخانے کا ’ایکس‘ پر بیان اور الزامات

  • مذاکرات سے گریز: بیروت میں امریکی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ حزب اللہ اس وقت نہ تو لبنانی ریاست سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے، نہ امریکہ سے اور نہ ہی اسرائیل سے، کیونکہ تنظیم اپنے تمام فیصلے مبینہ طور پر ایران کے احکامات کے تحت لے رہی ہے۔
  • واحد جائز فریق: امریکی مؤقف کے مطابق لبنان کی مرکزی حکومت ہی ملک کے مستقبل، سلامتی اور لبنانی عوام کی حقیقی نمائندگی کے حوالے سے مذاکرات کے لیے واحد اور آئینی طور پر جائز فریق ہے۔

🛡️ ہتھیاروں کی واپسی اور امریکی پیشکش

  • خودمختار لبنان کی حمایت: امریکہ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ لبنانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور لبنان کو ایک محفوظ، آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے، تاہم واشنگٹن کے نزدیک اس مقصد کے حصول کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ حزب اللہ اپنے تمام ہتھیار ریاست کے حوالے کرے۔
  • فریقین کے مؤقف کو قریب لانے کی پیشکش: امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اگر حزب اللہ لبنانی حکومت کو یہ واضح کر دے کہ وہ اپنے ہتھیار ریاست کے سپرد کرنے کے لیے کب تیار ہے، تو امریکہ تمام فریقین کے مابین فاصلے مٹانے اور مؤقف کو قریب لانے میں بھرپور مدد کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ بیان میں تنظیم پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کے بجائے لبنان اور عام لبنانی عوام کے مفاد میں تاریخی فیصلے کرے۔

⚖️ سیاسی کشیدگی اور پس منظر

  • مستقبل کے فیصلے ریاستی اداروں کے تحت: امریکہ کی جانب سے حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کا یہ مطالبہ ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان میں تنظیم کے پاس موجود عسکری ہتھیاروں، ریاستی خودمختاری اور علاقائی سیاست میں اس کے کردار پر شدید سیاسی کشیدگی جاری ہے۔
  • واشنگٹن کا دوٹوک مؤقف ہے کہ لبنان میں مستقبل کے تمام تتربیت یافتہ اور پالیسی ساز فیصلے صرف اور صرف ملک کی منتخب حکومت اور آئینی ریاستی اداروں کے ذریعے ہی ہونے چاہئیں، نہ کہ کسی مسلح ملیشیا کے ذریعے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *