ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر؛ 2 ہزار امریکی میرینز اور 3 طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کرنے کا فیصلہ! 🇺🇸🇮🇷

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر؛ 2 ہزار امریکی میرینز اور 3 طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کرنے کا فیصلہ! 🇺🇸🇮🇷
Spread the love

تاریخ / مقام: واشنگتن / لندن / طہران / عدن

بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر بڑی شدت آ گئی ہے۔ خطے میں سیکیورٹی خدات اور عسکری توازن کے پیش نظر امریکہ نے اپنی جنگی صلاحیتوں کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اس دوران سمندری گزرگاہوں اور دیگر محاذوں پر بھی اہم پُرتشدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔

امریکی عسکری تعیناتی اور نومبر تک کا ہدف

امریکی دفاعی منصوبے کے تحت خطے میں عسکری موجودگی کو بھرپور طریقے سے بڑھایا جا رہا ہے۔ منصوبے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں مجموعی طور پر 3 طیارہ بردار بحری جہاز اور 2 لینڈنگ گروپس تعینات کیے جائیں گے، جن میں 2 ہزار میرینز بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس مکمل فوجی اور بحری تعیناتی کا عمل رواں سال نومبر تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز میں سپر ٹینکر پر نامعلوم پروجیکٹائل کا حملہ

دوسری جانب برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے ایک تشویشناک واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اہم بین الاقوامی تجارتی راستے یعنی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بحری جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ عرب نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق یہ 25 لاکھ بیرل گنجائش رکھنے والا ایک سپر ٹینکر تھا۔

  • خوش قسمتی سے جہاز کے عملے کے تمام افراد کے محفوظ رہنے کی اطلاع ملی ہے۔
  • ٹینکر کو پہنچنے والے مالی نقصان اور ممکنہ ماحولیاتی اثرات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
  • میری ٹائم ایجنسی نے تاحال اس حملے کی ذمہ داری کسی ملک یا عسکری گروپ پر عائد نہیں کی اور نہ ہی جہاز کا نام، پرچم یا اس کے کارگو کی تفصیلات ظاہر کی ہیں۔ ادارے نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دیگر تمام بحری جہازوں کو انتہائی احتیاط برتنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت جاری کی ہے۔

برطانیہ میں ایک اور گرفتاری اور تحقیقات

ادھر برطانیہ میں جاری سیکیورٹی تحقیقات میں پیشرفت ہوئی ہے جہاں انسدادِ دہشت گردی پولیس نے فیئر فورڈ ائیر بیس کے قریب پیش آنے والے سیکیورٹی واقعے کے سلسلے میں برطانوی اور ایرانی دوہری شہریت کے حامل ایک شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار شخص کی عمر 25 سال ہے اور اسے لندن میں دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری کرنے کے شبہے میں دبوچا گیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اسی واقعے کے سلسلے میں گرفتار کیے جانے والے پانچ افراد کو پولیس ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے، جبکہ تفتیش کا دائرہ کار ہنوز وسیع ہے۔

یمن کے محاذ پر حوثیوں اور حکومتی فورسز میں شدید جھڑپیں

خطے کے ایک اور گرم محاذ یعنی یمن میں بھی کشیدگی عروج پر ہے۔ طائز کے محاذ پر حوثی باغیوں اور یمنی حکومتی فورسز کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے مختلف محاذوں پر سخت حملے کیے، تاہم یمنی حکومتی فورسز نے دشمن کی پیشقدمی کو روکتے ہوئے اپنی تمام دفاعی پوزیشنیں کامیابی سے برقرار رکھی ہیں۔ اس دوران سعودی عرب کی جانب سے بھی حوثیوں کے داغے گئے میزائلوں اور ڈرون حملوں کو فضا میں ہی ناکام بنانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام پیشرفت ایسے نازک وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی اور عسکری محاذ پر تناؤ عروج پر ہے اور آبنائے ہرمز جیسے حساس سمندری راستوں پر سیکیورٹی بحران کے باعث عالمی تجارت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

G24 News Online بین الاقوامی سیاست، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور تمام اہم عالمی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *