واشنگٹن/ انٹرنیشنل ڈیسک: امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں امیگرنٹ ویزوں کی کارروائی عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے انٹرویوز منسوخ کر دیے ہیں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے غیر ملکیوں کے لیے امیگریشن اور ویزا پالیسیوں کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
📌 قونصلر افسران کی خصوصی تربیت اور انٹرویوز کی منسوخی
- تربیتی پروگرام: امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام قونصلر افسران کی خصوصی اور تفصیلی تربیت کے لیے کیا گیا ہے تاکہ دنیا بھر میں موجود افسران ہر ویزا درخواست گزار کی جامع اور یکساں بنیاد پر جانچ پڑتال کے لیے تیار ہو سکیں۔
- درخواست گزاروں کو مشکلات: فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے سے امریکا میں مستقل طور پر منتقل ہونے کے خواہش مند افراد کی ویزا کارروائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ مختلف سفارتخانوں میں پہلے سے طے شدہ انٹرویوز رکھنے والے بعض درخواست گزاروں کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے کہ ان کے انٹرویوز دوبارہ مقرر کیے جائیں گے اور نئی تاریخ بعد میں بتائی جائے گی۔
- سخت جانچ پڑتال (Public Charge): موجودہ انتظامیہ امیگرنٹ ویزا درخواست گزاروں کی مزید سخت جانچ پڑتال چاہتی ہے تاکہ ایسے افراد کو ویزا دینے سے روکا جا سکے جن کے بارے میں خدشہ ہو کہ وہ مستقبل میں امریکی حکومت کی مالی معاونت یا عوامی سہولیات پر انحصار کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے وہ افراد بھی متاثر ہوئے ہیں جو انٹرویوز کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کر چکے تھے۔
🚫 ٹرمپ انتظامیہ کی سخت پالیسیاں اور ویزا منسوخیاں
- ویزا استحقاق ہے، بنیادی حق نہیں: امریکی محکمہ خارجہ کا مؤقف ہے کہ ویزا حاصل کرنا ایک ’’استحقاق‘‘ ہے کوئی بنیادی حق نہیں۔
- عارضی ویزے پر پناہ کی ممانعت: امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ایسے غیر ملکی جو سیاحت یا کاروبار کے لیے عارضی ویزے پر امریکا آئے لیکن بعد میں مستقل قیام کے لیے پناہ کی درخواست دے دی، ان کے ویزے منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق عارضی ویزے میں اصل نیت چھپانا ویزا قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
- بڑے پیمانے پر ویزا منسوخیاں: وائٹ ہاؤس کے مطابق تقریباً 2 لاکھ ویزے متاثر ہو سکتے ہیں اور اسے امریکی تاریخ میں ویزے منسوخ کرنے کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ جنوری 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد اب تک تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار غیر ملکیوں کے ویزے مختلف وجوہات کی بنا پر منسوخ کیے جا چکے ہیں۔
- سوشل میڈیا اور نگرانی کا دائرہ: ویزا مدت ختم ہونے کے بعد امریکا میں قیام کرنے والے افراد کے خلاف بھی سخت کارروائی پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ درخواست گزاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کا دائرہ بھی بڑھایا جا رہا ہے۔




