واشنگٹن/ انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے پیش نظر امریکی بحریہ نے اپنے طاقتور طیارہ بردار بحری جہاز ’’یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ‘‘ کو آئندہ چند ہفتوں میں خطے کے لیے روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں اس کی کم از کم 7 سے 8 ماہ تک تعیناتی متوقع ہے۔
📌 تعیناتی کی تفصیلات اور عملے کی تیاری
- مدت اور روانگی: امریکی بحریہ کے ماسٹر چیف پیٹی آفیسر جان پیرمین کے مطابق جہاز کے عملے کو 7 سے زیادہ یعنی تقریباً 8 ماہ کی طویل تعیناتی کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرنے اور تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
- اہلکاروں اور وسائل کی تعداد: اس بڑے طیارہ بردار بحری جہاز پر تقریباً 5 ہزار فوجی اہلکار موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ اس پر جنگی طیارے اور دیگر اہم فضائی و بحری وسائل بھی تعینات کیے جا سکتے ہیں جو سمندر میں متحرک بحری اڈے کا کردار ادا کرتے ہیں۔
- اسٹریٹجک اہمیت: یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب خطے میں فوجی کشیدگی برقرار ہے اور واشنگٹن اپنی بحری موجودگی کو قلیل مدتی اقدام کے بجائے طویل عرصے تک برقرار رکھنے کی تیاری کر رہا ہے۔
⚓ ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کا پس منظر اور فوجیوں پر دباؤ
- ابراہم لنکن کا طویل طوفانی سفر: اس نئی تعیناتی کا ایک اہم پس منظر امریکی بحری جہاز ’’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘‘ کی حالیہ طویل تعیناتی ہے، جو مشرق وسطیٰ میں 250 دن سے زائد عرصے تک کسی بھی بندرگاہ پر رکے بغیر مسلسل سمندر میں موجود رہا، جسے امریکی بحریہ کی غیر معمولی طویل تعیناتیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
- اہلکاروں کے چیلنجز: طویل مدتی تعیناتیوں کے باعث امریکی فوجیوں کے آرام، ذہنی دباؤ اور خاندانوں سے طویل دوری جیسے مسائل بھی زیر بحث رہے ہیں، جس کی وجہ سے امریکی بحریہ کو اپنے عملے کی جنگی تیاری اور نفسیاتی دباؤ دونوں کو متوازن رکھنے کے چیلنجز کا سامنا ہے۔




