تاریخ / مقام: ہنوئی / اسلام آباد
بین الاقوامی و ماحولیاتی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
ویتنام کے تاریخی اور خوبصورت دارالحکومت ہنوئی (Hanoi) میں درختوں کی ایک مخصوص اور میٹھی خوشبو شہریوں کے لیے ذہنی و جسمانی اذیت اور وبالِ جان بن گئی ہے، جس کے بعد انتظامیہ کو سیکڑوں درختوں کی پھولوں والی شاخیں کاٹنے اور بعض درختوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا ہنگامی فیصلہ کرنا پڑا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز (Reuters) کے مطابق ہنوئی میں مقامی طور پر ’ہوا سوا‘ (Hoa Sua) یا عام زبان میں ’ملک فلاور‘ (Milk Flower) کہلانے والے درخت اپنی انتہائی تیز اور مخصوص میٹھی خوشبو کے لیے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں۔
موسمِ خزاں کی پہچان اور شہریوں کا سردرد
یہ درخت عام طور پر شام کے وقت فضا میں شدید خوشبو چھوڑتے ہیں، جبکہ ستمبر اور اکتوبر کے موسمِ خزاں کے دنوں میں اس خوشبو کی شدت اور پھیلاؤ میں بے تحاشا اضافہ ہو جاتا ہے۔
- درختوں کی تعداد: ہنوئی شہر میں اس وقت تقریباً 14 ہزار 400 ایسے درخت موجود ہیں، جن کی خوشبو کو طویل عرصے سے ہنوئی کے موسمِ خزاں کا رومانی اور روایتی حصہ تصور کیا جاتا رہا ہے۔
- شہریوں کی اذیت: تاہم حالیہ عرصے میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شکایت کی ہے کہ اس درخت کی خوشبو اس قدر شدید اور تیز ہوتی ہے کہ انہیں سانس لینے میں دشواری، شدید سردرد اور ادھے سر کے درد (Migraine) کی شکایت ہونے لگتی ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ اس دم گھٹانے والی خوشبو کی وجہ سے انہوں نے شام کو واک پر جانا بھی ترک کر دیا ہے۔
حکومتی مہم اور ملا جلا ردِعمل
شہریوں کی مسلسل اور بڑھتی ہوئی شکایات پر ایکشن لیتے ہوئے مقامی حکام نے پانچ روزہ خصوصی مہم کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت شہر کے تقریباً 7 فیصد ملک فلاور درختوں کی پھولوں والی شاخیں کاٹی جا رہی ہیں اور گنجان علاقوں سے انہیں دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، شہر کے بعض معمر اور روایتی شہری حکومت کے اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ خوشبو ہنوئی کے تاریخی حسن اور ماحول کا لازمی حصہ ہے جسے ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔
ماحولیاتی و طبی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ان درختوں سے نکلنے والی خوشبو کیمیاوی طور پر زہریلی نہیں ہوتی، تاہم ان کے زیرِ گل (Pollon) اور خوشبو کے ذرات حساس مزاج افراد میں الرجی، سردرد اور سانس کی تکلیف کو متحرک کر سکتے ہیں۔
G24 News Online عالمی خبروں، عجیب و غریب واقعات، ماحولیاتی اپ ڈیٹس، اور تمام اہم بین الاقوامی بریکنگ نیوز غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




