- متاثرہ خاندان کا پس منظر: پولیس کو دیے گئے بیان میں متاثرہ لڑکی کے والد نے بتایا کہ وہ اور ان کا 16 سالہ بیٹا ایک شادی ہال میں ڈش واشر کے طور پر کام کرتے ہیں، جبکہ ان کی 13 سالہ بیٹی چکلالہ کے علاقے میں پھول اور کھلونے فروخت کر کے گزر بسر میں ہاتھ بٹاتی ہے۔
- لفٹ کا بہانہ اور درندگی: مقدمے کے مطابق بچی پھول اور کھلونے فروخت کرنے کے بعد جب واپس گھر جا رہی تھی تو محلے کے ہی ایک رکشہ ڈرائیور نے اسے لفٹ دی۔ ملزم نے لڑکی کو گھر چھوڑنے کے بجائے قبرستان والے گراؤنڈ میں لے جا کر مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
- واقعے کا انکشاف: والد کے مطابق ملزم علی مجاہد نے بچی کو شدید نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بات کسی کو نہ بتائے، تاہم بچی نے گھر پہنچ کر اپنی کزن کو پوری روداد سنائی جس کے بعد اہل خانہ کو اس ہولناک واقعے کا علم ہوا۔
👮♂️ پولیس کی کارروائی اور ملزم کی تلاش
- والد کی مدعیت میں ملزم علی مجاہد کے خلاف زبردستی زیادتی اور دھمکانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
- پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرنے کے بعد فوری طور پر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ اسے جلد قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔




