ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

صحت

وزن کم کرنے والی ادویات (اوزمپک اور ویگووی) دمے کے دوروں میں 40 فیصد تک کمی لا سکتی ہیں!

وزن کم کرنے والی ادویات (اوزمپک اور ویگووی) دمے کے دوروں میں 40 فیصد تک کمی لا سکتی ہیں!
Spread the love

تاریخ / مقام: لندن / اسلام آباد

بیورو رپورٹ — G24 News Online

تفصیل:

طبی دنیا سے ایک انتہائی حوصلہ افزا اور بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں برطانوی سائنس دانوں کی نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی مشہور ادویات (جیسے اوزمپک اور ویگووی) دمے (Asthma) کے اچانک اور شدید دوروں میں نمایاں کمی لانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

سیمیگلوٹائڈ اور سانس کی بیماریوں پر مثبت اثرات

تحقیق کی سربراہ اور امپیریل کالج لندن کے نیشنل ہارٹ اینڈ لنگ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ڈاکٹر کلوئی بلوم (Chloe Bloom) کے مطابق، سیمیگلوٹائڈ (Semaglutide) جو کہ بنیادی طور پر ایک جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگنسٹ (GLP-1 receptor agonist) دوا ہے اور ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے، اب دمے کے مریضوں کے لیے بھی نئی امید بن کر ابھری ہے۔ سابقہ تحقیقات سے بھی یہ اشارہ ملا تھا کہ ان ادویات میں سوزش (Inflammation) کم کرنے کی قدرتی خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو پھیپھڑوں سے متعلق نتائج کو بہتر بنا سکتی ہیں۔

تحقیق کے طریقہ کار اور حیرت انگیز نتائج

اس جامع تحقیق کے دوران محققین نے برطانیہ کے الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈز کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے چار الگ الگ مطالعات کیے۔ ہر تحقیق میں تقریباً 20 ہزار سے 22 ہزار ایسے افراد کو شامل کیا گیا جنہوں نے یا تو جی ایل پی-1 کا علاج شروع کیا تھا یا پھر ذیابیطس کی ایک دوسری دوا ‘سلفونائل یوریا’ استعمال کر رہے تھے۔

تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ دمے اور سی او پی ڈی (COPD) جیسی سانس کی سنگین بیماریوں میں مبتلا وہ افراد جنہیں جی ایل پی-1 ادویات تجویز کی گئیں، ان میں دمے کے دوروں اور بیماری کے اچانک بگڑنے کے واقعات دوسری ادویات استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم دیکھے گئے۔ ڈاکٹر کلوئی بلوم نے بتایا کہ یہ مثبت اثر سیمیگلوٹائڈ کے استعمال سے سب سے زیادہ نمایاں تھا، بالخصوص دمے کے مریضوں میں، جہاں اس کا استعمال دمے کے دوروں میں تقریباً 40 فی صد کمی کا باعث بنا۔

مزید طبی جانچ کی ضرورت

محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج جی ایل پی-1 ادویات اور سانس کی بیماریوں کے درمیان ایک گہرے اور مثبت تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم، ان ادویات کو باقاعدہ طور پر دمے کے علاج کے متبادل یا دوا کے طور پر اپنانے سے پہلے ان کی افادیت اور حفاظت (Safety) کو مزید جانچنے کے لیے مزید وسیع طبی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

G24 News Online صحت اور سائنس سے جڑی تمام اہم، مصدقہ اور سائنسی رپورٹس اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *