تاریخ / مقام: نیویارک / تہران
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس وقت ڈرامائی صورتحال پیدا ہو گئی جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے خطاب کے آغاز پر ہی امریکی وفد ہال سے واک آؤٹ کر گیا۔ ایرانی صدر کی جانب سے پیش کیے جانے والے ناقابل تردید حقائق اور تصویری شواہد امریکی وفد کے لیے برداشت کرنا مشکل ہو گئے۔
میناب کے اسکول اور رہائشی علاقوں پر حملوں کا انکشاف
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کے بڑے فورم پر خطاب کے دوران میناب کے پرائمری گرلز اسکول پر امریکی حملے میں شہید ہونے والی معصوم طالبات کی تصاویر دنیا کے سامنے پیش کیں۔ انہوں نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر بھی دکھائی اور شرکا کو بتایا کہ کس طرح ان کے رہنما کو جنگ کے پہلے روز بغیر کسی قصور کے نشانہ بنایا گیا۔ صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے جنگ کے دوران کھیل کے میدانوں اور رہائشی علاقوں کو بھی سفاکانہ نشانہ بنایا جس میں بے شمار معصوم اور نہتے شہری لقمہ اجل بنے۔
ایران کا دفاعی مؤقف اور دوٹوک پیغام
ایرانی صدر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اس کے برعکس ایران نے اپنے دفاع میں جو بھی جوابی کارروائی کی، اس میں کبھی کسی شہری عمارت یا غیر متعلقہ آبادی کو نشانہ نہیں بنایا۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران خود طویل عرصے سے امریکی و اسرائیلی دہشت گردی کا مکروہ سامنا کر رہا ہے۔
امریکی وفد کا واک آؤٹ اور سوشل میڈیا کا ردعمل
اقوام متحدہ کے اجلاس میں جیسے ہی یہ تلخ حقائق اور شواہد پیش کیے گئے، وہاں موجود امریکی وفد بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ہال سے اٹھ کر باہر چلا گیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس واقعے پر شدید تبصرے کیے گئے اور لکھا گیا کہ جب امریکا کو اصل آئینہ دکھایا گیا تو وہ سچ برداشت نہ کر سکے، کیونکہ حقائق کا سامنا کرنے کے لیے بہت بڑے ظرف کی ضرورت ہوتی ہے۔
امریکی وفد کے واک آؤٹ کرنے کے باوجود ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ذرا برابر بھی مصلحت سے کام لیے بغیر اپنی تقریر جاری رکھی اور ببانگ دہل اعلان کیا کہ ایران مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، لیکن طاقت کی کوئی بھی زبان اسے قطعاَ قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ایران نہ تو کبھی گھٹنے ٹیکے گا اور نہ ہی اپنے پرامن جوہری حقوق سے دستبردار ہوگا۔
G24 News Online بین الاقوامی سفارت کاری، عالمی فورمز پر ہونے والی اہم تقاریر اور سیاسی پیش رفت سے اپنے قارئین کو بروقت باخبر رکھتا رہے گا۔




