ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

مذاکرات پر تیار، طاقت کی زبان قبول نہیں، گھٹنے ٹیکیں گے نہ جوہری حق سے پیچھے ہٹیں گے؛ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا اقوام متحدہ سے خطاب! 🇮🇷🇺🇸

مذاکرات پر تیار، طاقت کی زبان قبول نہیں، گھٹنے ٹیکیں گے نہ جوہری حق سے پیچھے ہٹیں گے؛ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا اقوام متحدہ سے خطاب! 🇮🇷🇺🇸
Spread the love

تاریخ / مقام: نیویارک / تہران

بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ ایرانی عوام خود طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے مکمل تیار ہے لیکن وہ کسی کی طاقت کی زبان یا دباؤ کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

امریکی و اسرائیلی حملوں کی مذمت اور دفاع کا حق

ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی جامعات، طبی مراکز، اسکولوں، اسپتالوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی کے دوران کبھی کسی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت اور میناب کے پرائمری گرلز اسکول پر امریکی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سپریم لیڈر کو بغیر کسی قانونی جواز کے قتل کیا گیا جبکہ جنگ کے پہلے ہی روز اسکول کی درجنوں طالبات کو شہید کر دیا گیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ 200 برس میں ایران نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا اور وہ اپنی طاقت کو جارحیت یا علاقائی بالادستی کے لیے استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

جوہری پروگرام اور اسرائیل کے دوہرے معیار پر سوال

ایس ای او اور عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہا، تاہم پرامن جوہری ٹیکنالوجی کا حصول اس کا فطری اور قانونی حق ہے جس سے وہ کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اسرائیل کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کیوں نہیں کرایا جاتا، حالانکہ اسرائیل جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے (NPT) کا رکن بھی نہیں ہے۔

غزہ کی صورتحال اور عالمی اداروں کی ناکامی

فلسطین اور غزہ کی ابتر صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ فلسطین عالمی برادری کے ضمیر پر ایک کھلا زخم ہے، اور غزہ معصوم شہریوں کو تحفظ دینے میں عالمی اداروں کی مکمل ناکامی کی علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جب تک قبضہ، جارحیت اور ناانصافی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، فلسطینیوں کی مزاحمت بھی رکے گی نہیں کیونکہ بمباری اور محاصرے کے ہتھکنڈوں سے مزاحمت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ٹرمپ کے نام واضح پیغام

تقریر کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے خبردار کیا کہ پابندیوں، دباؤ اور دھمکیوں سے ایرانی عوام کے عزم میں کمی کے بجائے ان کی مزاحمت مزید بڑھے گی۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ ایران مذاکرات اور بات چیت کے دروازے بند نہیں کرتا لیکن وہ کسی بھی صورت سر نہیں جھکائے گا اور نہ ہی اپنے دفاعی و جوہری حقوق سے پیچھے ہٹے گا۔

G24 News Online بین الاقوامی سفارت کاری، عالمی رہنماؤں کے بیانات اور اہم خطاتی پیش رفت سے اپنے قارئین کو بروقت باخبر رکھتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *