تاریخ / مقام: اسلام آباد
عدالتی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک اہم قانونی فیصلے میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کو ایک ہی واقعے اور پرانے الزامات پر دوبارہ انکوائری کرنے سے سختی سے روک دیا ہے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے شہری میر اویس کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پرانے اور نمٹائے گئے الزامات پر بار بار نئی انکوائری نہیں کی جا سکتی۔
پہلی انکوائری کی بندش اور دوبارہ کارروائی کا پس منظر
عدالتِ عالیہ کے فیصلے کے مطابق ایف آئی اے ایبٹ آباد پہلے ہی اسی واقعے اور مخصوص الزامات کی مکمل انکوائری کرنے کے بعد معاملہ باضابطہ طور پر بند کر چکی تھی، جو کہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ تاہم، پہلی انکوائری بند ہونے کے کافی عرصے بعد ایف آئی اے اسلام آباد نے انہی پرانے الزامات پر دوبارہ کارروائی کا آغاز کر دیا تھا، جس کے خلاف درخواست گزار میر اویس نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
ڈبل جیپرڈی اور دفتر کی تبدیلی سے متعلق عدالت کا مؤقف
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ موجودہ انکوائری کسی نئے یا الگ واقعے سے متعلق نہیں ہے، بلکہ یہ عین اسی واقعے اور انہی الزامات کی بنیاد پر ہے جن کا تفصیلی جائزہ پہلے ہی لیا جا चुका ہو۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ محض دفتر یا تفتیشی افسر کی تبدیلی کی بنیاد پر انہی الزامات پر دوبارہ انکوائری شروع نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ایک ہی حقائق اور الزامات پر بار بار انکوائری کا عمل ملزم کو ‘ڈبل جیپرڈی’ (ایک ہی جرم یا معاملے میں دوبارہ کارروائی کا سامنا کرنے) کے مترادف اور شہریوں کو حاصل آئینی تحفظ کے منافی ہے۔
ایف آئی اے کا نوٹس غیر قانونی قرار
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے اسلام آباد کی جانب سے شروع کی گئی بعد ازاں انکوائری اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت جاری کیے گئے نوٹس کو قانونی اختیار سے عاری قرار دے دیا۔ عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسی حقائق کی بنیاد پر مزید انکوائری کو ہرگز آگے نہ بڑھائے۔ عدالت کے اس تحریری فیصلے کے بعد میر اویس کے خلاف اس مبینہ دوسری انکوائری کا کوئی قانونی اثر باقی نہیں رہا، اور عدالت نے دائر درخواست نمٹا دی۔
G24 News Online عدالتی فیصلوں، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




