تاریخ / مقام: اسلام آباد
عدالتی و کرائم ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
سپریم کورٹ آف پاکستان نے مدرسے کے ایک طالبعلم کے ساتھ بدفعلی کے گھناؤنے جرم میں ملوث ملزم کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے کیس کی سماعت کے دوران ملزم کے وکیل کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایسے جرائم کی معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
عدالتی کارروائی اور بینچ کے ریمارکس
سپریم کورٹ میں اس اہم کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران ملزم زین علی کے وکیل نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ مدعی کی جانب سے ان کے مؤکل کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے، اور یہ کہ مدرسہ بہت چھوٹا ہے جہاں اس نوعیت کا فعل ممکن ہی نہیں۔
وکیل کے دلائل پر بینچ کے معزز رکن جسٹس نعیم اختر افغان نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ “ایسا عمل مدرسہ میں کرنا تو اور بھی زیادہ سنگین فعل ہے۔”
ملزم ٹرائل میں اپنی بے گناہی ثابت کرے، عدالت
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم کے خلاف جرم کی سنگین نوعیت کے پیشِ نظر ٹرائل کورٹ میں باقاعدہ طور پر فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے دوٹوک ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملزم قانون کی نظر میں بے قصور ہے تو وہ فرار ہونے یا ضمانت کی بجائے ٹرائل کا سامنا کرے اور عدالت کے سامنے اپنی بے گناہی ثابت کرے۔ سپریم کورٹ نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم زین علی کی درخواستِ ضمانت خارج کر دی۔
واضح رہے کہ ملزم زین علی کے خلاف اس گھناؤنے جرم پر تھانہ ٹیکسلا میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جہاں قانونی کارروائی اور مقدمے کی سماعت کا عمل جاری ہے۔
G24 News Online قانون کی بالادستی، عدالتی فیصلوں اور کرائم رپورٹس سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




