تاریخ / مقام: لاہور
کرائم ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس سی میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ غیر ملکی لڑکی ڈیانا سے مبینہ اجتماعی زیادتی (گینگ ریپ) کے مقدمے کی تفتیش میں سنسنی خیز اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی تحویل میں لے لی ہے جبکہ دو خواتین سمیت پانچ مبینہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔
گاڑی کی برآمدگی اور نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے
پولیس ذرائع کے مطابق مبینہ ملزمان نے غیر ملکی لڑکی کو ٹریپ کر کے فلیٹ تک لے جانے کے لیے ایک سفید رنگ کی گاڑی استعمال کی تھی، جو کہ مرکزی ملزم تنویر کی ملکیت ہے۔ پولیس نے یہ گاڑی ایک مرکزی ملزم کے رشتہ دار کے گھر سے برآمد کر کے تھانہ ڈیفنس سی منتقل کر دی ہے جہاں اس کا فرانزک معائنہ کیا جا رہا ہے۔ اس گھناؤنے جرم میں عمر، محسن، تنویر اور دو خواتین (جن میں مسکان بھی شامل ہے) کے نام سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے تمام مبینہ ملزمان کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کر دیے ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے سندر، ڈیفنس اور دیگر علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ابتدائی کارروائیوں کے دوران ملزمان کے رشتہ داروں سمیت 5 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے اہم معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
متاثرہ خاتون کی سفری تفصیلات اور پنجاب اسمبلی میں موجودگی
دستاویزات کے مطابق متاثرہ لڑکی ڈیانا رواں سال مارچ سے مئی کے دوران دو مرتبہ پاکستان آ چکی تھی اور یہ اس کا تیسرا دورہ تھا۔ وہ کپڑے کے کاروبار کے سلسلے میں لاہور اور فیصل آباد آتی جاتی رہی ہے اور اچھی طرح اردو زبان بھی سمجھتی و بول سکتی ہے۔ تفتیش کے دوران ایک اہم انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ غیر ملکی خاتون کی پنجاب اسمبلی میں موجودگی سے متعلق تصاویر اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی باقاعدہ طور پر تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے تاکہ اس کے روابط اور پاکستان میں آمدورفت کے تمام پہلوؤں کا مکمل احاطہ کیا جا سکے۔
میڈیکل معائنہ اور عدالتی کارروائی
پولیس کے مطابق متاثرہ 20 سالہ ڈیانا کا میڈیکل معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے اور اس کے بیانات کو بھی تفتیش میں شامل کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت خاتون کا ابتدائی بیان قلمبند کرانے کے لیے ڈیوٹی مجسٹریٹ ارم یوسف کی عدالت سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالت نے ہدایت کی ہے کہ متاثرہ خاتون کو متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا جائے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، پولیس ان کے قریب پہنچ چکی ہے اور انہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
G24 News Online قانون کی بالادستی، خواتین کے تحفظ اور کرائم رپورٹس سے جڑی تمام مصدقہ اور تازہ ترین خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




