ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

تفریح

چین میں چہرہ بھی آمدنی کا ذریعہ بن گیا، لوگ اے آئی کو ڈیجیٹل شناخت لائسنس پر دینے لگے! 🇨🇳📉

چین میں چہرہ بھی آمدنی کا ذریعہ بن گیا، لوگ اے آئی کو ڈیجیٹل شناخت لائسنس پر دینے لگے! 🇨🇳📉
Spread the love

تاریخ / مقام: بیجینگ (چین)

ٹیکنالوجی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

چین کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مصنوعی ذہانت (AI) کی صنعت نے روزگار اور آمدنی کے روایتی تصورات میں ایک دلچسپ اور انوکھی تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔ اب عام لوگ بھی اپنے چہرے یا ڈیجیٹل شناخت کو اے آئی سے تیار کیے جانے والے ڈراموں، اشتہارات اور ویڈیو گیمز کے کرداروں کے لیے لائسنس پر دے کر معقول رقم کما رہے ہیں۔ اس نئے رجحان کے تحت اب کسی فلم یا اشتہار میں اداکاری کے لیے اسٹوڈیو جانے کی ضرورت نہیں رہی، بلکہ صرف ایک ڈیجیٹل چہرہ ہی کسی کردار کے لیے کافی ہوتا ہے۔

ڈیجیٹل شناخت کا کاروبار اور طریقہ کار

چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ رجحان پہلے فلم اور ٹیلی ویژن سے وابستہ محدود حلقوں تک نمایاں تھا، تاہم اب عوامی پلیٹ فارمز پر اس کی موجودگی تیزی سے بڑھ رہی ہے جس سے انسانی شناخت کا بنیادی حصہ سمجھ جانے والا چہرہ اب ایک قابلِ تجارت ڈیجیٹل اثاثہ بن چکا ہے۔ اس کاروبار کا طریقہ کار انتہائی سادہ ہے؛ خواہش مند افراد متعلقہ پلیٹ فارمز (جیسے شین ژین میں قائم ’یوان شیانگ شِن شِنگ‘ یا ’ایکٹ آئی ڈی‘) پر اکاؤنٹ بناتے ہیں، شناخت کی تصدیق مکمل کرتے ہیں اور اپنے چہرے کی بنیاد پر ڈیجیٹل اداکار کا پروفائل تیار کرتے ہیں۔ اس کے بعد پروڈیوسرز اپنی ضرورت اور نوعیت کے مطابق موزوں چہرے کا انتخاب کرتے ہیں۔

حقیقی چہروں کی مانگ کیوں اور کتنی آمدنی؟

اے آئی کی مدد سے مختصر ڈراموں اور اشتہارات کی تیاری میں وقت اور اخراجات دونوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کی وجہ سے ایسے حقیقی چہروں کی مانگ پیدا ہوئی ہے جو زیادہ فطری محسوس ہوں۔ پروڈیوسرز مرکزی کرداروں کے لیے خوبصورت چہروں کے ساتھ ساتھ منفرد شکل و صورت اور بزرگ افراد کے چہرے بھی تلاش کرتے ہیں۔ آمدنی کے حوالے سے مختلف پلیٹ فارمز پر فی قسط یا پروجیکٹ کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا ہے، جہاں بعض افراد نے چند دنوں میں سینکڑوں یوان کمائے ہیں، جبکہ مارکیٹ میں بڑی شخصیات یا مخصوص فیچرز کے حامل چہروں کے لیے بڑی قیمتیں بھی ادا کی جا رہی ہیں۔

پرائیویسی اور شناخت کے تحفظ کے اہم سوالات

اس پورے رجحان میں سب سے اہم سوال رقم سے زیادہ شناخت کے اختیار اور سکیورٹی کا ہے۔ ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی مخصوص پروجیکٹ کے لیے چہرہ استعمال کرنے کی اجازت دینا ایک الگ بات ہے، جبکہ اسی ڈیجیٹل ڈیٹا کو اے آئی ماڈل کی تربیت یا مستقبل کے دوسرے مقاصد کے لیے دوبارہ استعمال کرنے سے پرائیویسی کے سنگین خطرات جنم لے سکتے ہیں۔ ماہرین زور دے رہے ہیں کہ معاہدے طے کرتے وقت استعمال کی مدت، مقام اور مقاصد کو واضح کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر یہ رجحان اسی رفتار سے پھیلا تو مستقبل میں چہرہ اور آواز بھی باقاعدہ لائسنس یافتہ اشیا بن جائیں گے، تاہم اس کے ساتھ ڈیجیٹل شناخت پر کنٹرول کا سوال برقرار رہے گا۔

G24 News Online ٹیکنالوجی کی دنیا، ڈیجیٹل معیشت اور جدید رجحانات سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *