تاریخ / مقام: پیرس (فرانس)
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے ایک ایسی حیرت انگیز دریافت کی ہے جو تاریخ کے کئی صدیوں پرانے ادوار کو روشناس کرانے میں اہم ثابت ہوگی۔ مشہور تاریخی مقام ‘نوٹر ڈیم’ کے قریب قدیم دور کی ایک جلی ہوئی دیوار دریافت ہوئی ہے، جس سے مؤرخین اور محققین کو قدیم گالک آبادی اور رومی دور سے پہلے کے حالات کو سمجھنے میں بڑی مدد ملنے کی توقع ہے۔
تاریخی پس منظر اور لوٹیس کا قلعہ
تاریخی روایات کے مطابق 52 قبل مسیح میں گالک قبیلے ’پاریسی‘ (Parisii) نے رومی فوج کے حملے سے بچنے کے لیے اپنے اس قلعہ بند شہر کو خود آگ لگا دی تھی۔ مشہور رومی حکمران اور جرنیل جولیس سیزر نے بھی اپنی تحریروں میں اس قدیم شہر ’لوٹیس‘ (Lutetia) کا ذکر کیا تھا، تاہم طویل عرصے تک اس شہر کے وجود کے ٹھوس اور مصدقہ آثار دنیا کے سامنے نہیں آ سکے تھے۔ اب نوٹر ڈیم کے قریب ملنے والی اس جلی ہوئی دیوار نے اس تاریخی حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے نئی امیدیں روشن کر دی ہیں۔
ماہرین اور حکومتی شخصیات کے بیانات
فرانسیسی وزارتِ ثقافت اور محکمہ آثارِ قدیمہ نے اس دریافت کو تاریخ اور ریسرچ کے میدان میں ایک بہت بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ فرانسیسی عہدیدار کیتھرین پیگارڈ نے اس دریافت کو قدیم گالک ’لوٹیس‘ کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے انتہائی کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر اس دور کے دریافت ہونے والے سب سے اہم اور نمایاں آثار میں سے ایک ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس دریافت کی مدد سے یہ جاننے میں مزید آسانی ہوگی کہ رومی دور کے غلبے سے قبل اس علاقے میں انسانی آبادکاری، طرزِ رہائش اور دفاعی نظام کیسا تھا۔
G24 News Online تاریخ، ثقافت اور بین الاقوامی دریافتوں سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




