ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

شوبز

صلہ یاسر کا بغیر اجازت ویڈیوز بنانے والوں پر شدید اظہارِ برہمی؛ کہتی ہیں پبلک فگر ہونا لائسنس نہیں! 📉❌

صلہ یاسر کا بغیر اجازت ویڈیوز بنانے والوں پر شدید اظہارِ برہمی؛ کہتی ہیں پبلک فگر ہونا لائسنس نہیں! 📉❌
Spread the love

تاریخ / مقام: کراچی / لاہور

شوبز ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف مارننگ شو میزبان ندا یاسر کی بیٹی صلہ یاسر بلوچ نے سوشل میڈیا صارفین، مداحوں اور مختلف برانڈز کی جانب سے بغیر اجازت ویڈیوز بنانے اور انہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے عمل پر کڑے الفاظ میں ناپسندیدگی اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی کا معروف یا پبلک فگر ہونا اس بات کا جواز نہیں بنتا کہ اس کی ذاتی زندگی اور پرائیویسی کا خیال نہ رکھا جائے۔

تقریبات میں برانڈز کا رویہ اور بغیر اجازت ریکارڈنگ

صلہ یاسر نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک حالیہ ناخوشگوار تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک تقریب میں شریک تھیں جہاں تقریباً ہر برانڈ اور وہاں موجود افراد نے ان کی والدہ (ندا یاسر) کی ویڈیو بنانے سے پہلے کسی قسم کی اجازت لینا گوارا نہیں کیا۔ انہوں نے اس بات پر شدید مایوسی کا اظہار کیا کہ شوبز سے وابستہ ہونے کا یہ مطلبہرگز نہیں ہے کہ کسی کو بھی بنا پوچھے کیمرے میں قید کر لیا جائے۔ صلہ کے مطابق اگرچہ برانڈز اپنے سوشل میڈیا پیجز کے لیے مواد (Content) تیار کرتے ہیں، تاہم ویڈیو بنانے سے پہلے پیشگی اجازت لینا ایک عام اور بنیادی اخلاقی قاعدہ ہونا چاہیے۔

کھانا کھاتے وقت ویڈیو بنانے اور نامناسب کیپشنز پر اعتراض

علاوہ ازیں، صلہ یاسر نے ان افراد کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو ریسٹورنٹس یا دیگر عوامی مقامات پر ان کے اہل خانہ کو اس حالت میں ریکارڈ کرتے ہیں جب وہ کھانا کھا رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ ایسے لمحات کو نہ صرف چھپ کر یا بلا اجازت ریکارڈ کیا جاتا ہے بلکہ بعد میں بعض افراد کی جانب سے غیر ضروری اور نامناسب کیپشنز کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کیا جاتا ہے، جو کسی بھی انسان کی ذاتی زندگی میں ایک صریح مداخلت اور ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔

G24 News Online شوبز انڈسٹری، شخصیات کی پرائیویسی اور سوشل میڈیا کے رجحانات سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *