ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

شوبز

بچپن کے صدمات کیلئے والدین کو ذمہ دار ٹھہرانا بند کریں، فرح سعدیہ کا دوٹوک بیان! 📉✨

بچپن کے صدمات کیلئے والدین کو ذمہ دار ٹھہرانا بند کریں، فرح سعدیہ کا دوٹوک بیان! 📉✨
Spread the love

تاریخ / مقام: لاہور

شوبز و سماجی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور میزبان فرح سعدیہ نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر عام ہونے والے اس رجحان پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جس کے تحت لوگ اپنی زندگی کے ہر مسئلے اور بچپن کے صدمات کا براہِ راست ذمہ دار اپنے والدین کو ٹھہراتے ہیں۔ فرح سعدیہ کا ماننا ہے کہ اپنی خامیوں یا مشکلات کا الزام ہمیشہ والدین پر دھرنا درست رویہ نہیں ہے۔

فرح سعدیہ کا مؤقف؛ ذاتی ذمہ داری اور خود پسندی کا رجحان

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اپنی ایک ویڈیو میں فرح سعدیہ نے کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کل ہر ناکامی، الجھن اور مسئلے کا الزام والدین پر ڈالنا ایک فیشن اور عام روش بن چکی ہے، حالانکہ حقیقت میں ہمیشہ والدین غلط نہیں ہوتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی ذاتی غلطیوں کی ذمہ داری لینے کے بجائے مسلسل اپنے والدین کو موردِ الزام ٹھہراتا رہے تو اس سے اس کی شخصیت میں خود پسندی (Narcissism) جیسی منفی خصوصیات پروان چڑھ سکتی ہیں۔

مینٹل ہیلتھ کا اعتراف اور صارفین کا ملا جلا ردعمل

اپنے ویڈیو پیغام میں فرح سعدیہ نے اس حقیقت کا اعتراف بھی کیا کہ والدین کی اپنی ذہنی صحت (Mental Health) کے مسائل بھی ہو سکتے ہیں اور بعض اوقات ان کا ناپختہ رویہ بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ان کے اس دو طرفہ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف متعدد صارفین نے فرح سعدیہ کی اس بات سے مکمل اتفاق کیا کہ انسان کو اپنی زندگی کی ذمہ داری خود لینی چاہیے، وہیں دوسری جانب ایک بڑے طبقے کا یہ بھی کہنا تھا کہ والدین کے زہریلے رویوں یا نظرانداز کرنے سے پیدا ہونے والے بچپن کے صدمات (Childhood Traumas) اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ انہیں اتनी آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

G24 News Online شوبز انڈسٹری، سماجی رویوں اور اہم رجحانات سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *