ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

روس کا یوکرین کے دوسرے اہم پل پر ڈرون حملہ؛ کیف کا ’ناردرن برج‘ شدید متاثر، سفارت کاروں کو شہر چھوڑنے کی ہدایت! 🌉🚨

روس کا یوکرین کے دوسرے اہم پل پر ڈرون حملہ؛ کیف کا ’ناردرن برج‘ شدید متاثر، سفارت کاروں کو شہر چھوڑنے کی ہدایت! 🌉🚨
Spread the love

تاریخ / مقام: کیف / ماسکو

بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع میں شدت آ گئی ہے، اور روسی افواج نے یوکرین کے دارالحکومت کیف میں ایک اور اہم ترین پل کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ ایک ہفتے کے دوران کیف کے اہم پلوں پر روسی حملے کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے جس سے شہر کا نقل و حمل کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔

پیونچنی پل پر ڈرون حملہ اور نقصانات

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ہفتے کی صبح ہونے والے اس حملے کے نتیجے میں دریائے ڈنیپرو پر واقع پیونچنی (ناردرن) پل کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ دھماکے سے دو افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ حملے کے بعد پل کی سڑک اور ٹرالی بس کی بجلی کی تاریں ٹوٹ گئیں، جس کے باعث پل پر فوری طور پر ٹریفک معطل کر دی گئی اور شہر کے مختلف حصوں کے درمیان آمدورفت اور ٹریفک کا دباؤ انتہائی بڑھ گیا۔ یاد رہے کہ اس سے ایک روز قبل ’پیودینی‘ (سدرن) پل کو بھی متعدد روسی ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

فریقین کے مؤقف اور روسی انتباہ

روسی حکام کا کہنا ہے کہ ان ڈرون حملوں میں ان پلوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو یوکرینی فوجیوں اور فوجی سازوسامان کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر روسی حکام نے غیر ملکی شہریوں اور سفارت کاروں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر یوکرین کا دارالحکومت کیف چھوڑ دیں۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں یوکرین کی جانب سے روسی توانائی کی تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کا براہِ راست جواب ہیں۔ دوسری جانب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روس پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ پلوں، اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے تاکہ شہریوں کو اپنے علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور کیا جا سکے۔ کیف کے میئر نے شہر کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی حملے اہم انفرااسٹرکچر، رہائشی علاقوں اور لاجسٹک مراکز کو تباہ کر رہے ہیں۔

ماہرین کی آراء

عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈرون حملوں سے پل فوری طور پر مکمل طور پر منہدم نہیں ہوتے، تاہم مسلسل حملے ان کے اہم ڈھانچے (Structures) کو اندر سے کمزور کر کے انہیں طویل عرصے کے لیے ناقابلِ استعمال بنا دیتے ہیں۔

G24 News Online بین الاقوامی امور، جنگی صورتحال اور دنیا بھر کی تمام اہم خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *