تاریخ / مقام: غزه / نیویارک
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جاری شدید اسرائیلی حملوں اور بمباری کے نتیجے میں تباہ ہونے والی عمارتوں کا ملبہ اتنی بڑی مقدار میں جمع ہو چکا ہے کہ اسے مکمل طور پر صاف کرنے میں 7 سے 10 سال تک کا طویل عرصہ لگ سکتا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق یہ صفائی مہم جدید تاریخ کی سب سے بڑی کوششوں میں سے ایک ہوگی۔
61 ملین ٹن ملبہ اور تباہی کا ریکارڈ
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق غزہ کی پٹی میں ملبے کی کل مقدار 61 ملین ٹن تک پہنچ چکی ہے۔ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے خصوصی نمائندے جیکو سیلیئرز (Jaco Cilliers) نے برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ ملبہ گزشتہ 18 سالوں کے دوران دنیا بھر میں ہونے والی تمام جنگوں اور تنازعات میں پیدا ہونے والے مجموعی ملبے سے بھی 20 گنا زیادہ ہے۔
انتہائی خطرناک اور پیچیدہ حالات
اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ ملبے ہٹانے اور کلیئرنس کا کام انتہائی مشکل اور جان جوکھوں میں ڈال دینے والے حالات میں انجام دیا جا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تباہ شدہ عمارتوں کے اس اتھاہ ملبے کے نیچے بڑی تعداد میں نہ پھٹنے والے بم اور بارودی مواد (Unexploded Ordnance) دبے ہوئے ہیں، جو ریسکیو اور صفائی کے عملے کے لیے شدید خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
عالمی اداروں نے اس انسانی اور ماحولیاتی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری امدادی کارروائیوں اور ملبے کو ٹھکانے لگانے کے لیے ضروری بین الاقوامی وسائل کی فراہمی پر زور دیا ہے تاکہ غزہ کے متاثرہ علاقوں کو دوبارہ رہنے کے قابل بنایا جا سکے۔
G24 News Online عالمی بحرانوں، انسانی حقوق کی صورتحال اور تمام اہم بین الاقوامی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




