تاریخ / مقام: نئی دہلی
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ایک بڑا احتجاج ریکارڈ کیا گیا ہے۔ احتجاج کے دوران پولیس نے کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی سمیت کئی اہم اپوزیشن رہنماؤں کو مختصر وقت کے لیے حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا۔
پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن تک مارچ اور حراست
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے تحت نکالی گئی اس احتجاجی ریلی میں راہول گاندھی بھرپور انداز میں شریک ہوئے۔ مظاہرین پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کر رہے تھے کہ پولیس کی بھاری نفری نے انہیں راستے میں روک لیا۔ اس دوران راہول گاندھی پولیس کی لگائی گئی رکاوٹ پر چڑھ گئے اور ہاتھ میں بھارتی پرچم لہراتے رہے۔ پولیس نے انہیں اور دیگر اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ کو حراست میں لیا اور کچھ دیر بعد رہا کر دیا۔
الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات اور مؤقف
اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل میں شدید بے ضابطگیاں کی گئی ہیں، جس سے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کو سیاسی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے احتجاج کے آغاز پر کہا کہ الیکشن کمیشن حکومت کے ہاتھ میں ایک کٹھ پتلی بن چکا ہے اور اپوزیشن ملک میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے سراپا احتجاج ہے۔
دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا واحد مقصد انتخابی فہرستوں کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اس تنازع پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
سکیورٹی کے سخت انتظامات اور سپریم کورٹ کا کردار
احتجاج کے پیش نظر نئی دہلی میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات رہی، اہم سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جبکہ متعدد راستے ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے تیسرے دورِ حکومت میں اپوزیشن کی جانب سے یہ ایک نیا اور بڑا سیاسی چیلنج سامنے آیا ہے۔ ادھر بھارت کی سپریم کورٹ نے بھی انتخابی ادارے کے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر کے طرزِ عمل سے متعلق دائر درخواستوں پر قانونی دلائل سننے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، اور عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی فیصلہ قانون کے خلاف ہوا تو عدالت اس کا نوٹس لے گی۔
G24 News Online بین الاقوامی سیاسی صورتحال، جمہوریت کی بحالی اور تمام اہم عالمی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




