تاریخ / مقام: لاہور
قومی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ اور اس کے تحت عائد کردہ ممکنہ پابندیوں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے، تاہم سماعت کے آغاز ہی میں عدالت کے ایک جج نے کیس سننے سے معذرت کر لی ہے۔
جج کی سماعت سے معذرت اور کیس کی منتقلی
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کے خلاف دائر کردہ درخواست پر سماعت کرنے سے معذرت کر لی۔ عدالت کی جانب سے کارروائی کو آگے بڑھانے کے بجائے کیس مزید سماعت کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو واپس ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ اس پر سماعت کے لیے کسی دوسرے بنچ کا تقرر کیا جا سکے۔
درخواست کے اہم نکات اور وکیل کے دلائل
درخواست گزار شیخ امتیاز کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے معروف وکیل اظہر صدیق نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ کسی بھی ٹھوس قانونی جواز کے بغیر پورے صوبے میں اس طرح کی پابندیاں عائد کرنا سراسر غیر قانونی ہے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایم پی او (MPO) کے تحت افراد کی نظربندیاں اور موبائل فون 및 انٹرنیٹ سروسز کی ممکنہ بندش کے اقدامات بھی آئین و قانون کے منافی ہیں۔
درخواست میں عدالت سے پُر زور استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کے تحریری آرڈرز، سیکیورٹی اسسمنٹ رپورٹس اور اس حوالے سے کیے گئے کابینہ کے فیصلوں کی تفصیلات طلب کی جائیں، اور کیس کے حتمی فیصلے تک دفعہ 144 کے نفاذ کا نوٹیفکیشن فوری طور پر معطل کیا جائے۔ درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ صوبے بھر میں پانچ یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔
G24 News Online عدالتی فیصلوں، قانونی امور اور تمام اہم قومی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




