مری/کرائم ڈیسک: ملکہ کوہسار مری میں انسانیت کو ہلا دینے والا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک سنگدل ماں نے مالی مشکلات اور کثرتِ اولاد سے تنگ آ کر اپنے ہی 2 ماہ کے معصوم شیرخوار بچے کو نالے میں پھینک کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پولیس نے اندھے قتل کے اس مکروہ واقعے کی گتھی سلجھاتے ہوئے ملزمہ ماں کو گرفتار کر لیا ہے۔
📌 پولیس تحقیقات اور مرکزی ملزمہ کی گرفتاری
- لاش کی برآمدگی: ڈی پی او مری رضا تنویر سپرا کے مطابق یکم ستمبر کو مری کے ایک نالے سے 2 ماہ کے معصوم بچے کی لاش برآمد کی گئی تھی، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی سنگین نوعیت کے پیش نظر فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔
- تفتیش کا رخ ماں کی طرف: پولیس کی پیشہ ورانہ تفتیش کے دوران اس لرزہ خیز قتل کے تانے بانے براہِ راست بچے کی اپنی ماں سے مل گئے، جس پر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے مرکزی ملزمہ کو حراست میں لے لیا۔
🛑 سنگدل ماں کا ہولناک اعترافِ جرم
- مالی مشکلات اور چھ بچوں کا بوجھ: ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار ملزمہ ماں (نبیلہ) نے اعتراف کیا کہ مقتول بچہ اس کا ساتواں بچہ تھا، جبکہ اس کے پہلے ہی سے 6 بچے موجود تھے۔
- پرورش سے معذوری: ملزمہ نے انتہائی سفاکانہ فعل کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ غربت اور پہلے سے موجود چھ بچوں کی دیکھ بھال کی وجہ سے ساتویں بچے کی پرورش کرنے سے قاصر تھی، اور اسی بوجھ سے تنگ آ کر اس نے یہ ہولناک قدم اٹھایا۔
⚖️ مقدمے کا اندراج اور قانونی کارروائی
- مقدمہ نمبر 541/26: ڈی پی او مری کے مطابق واقعے کا باضابطہ مقدمہ نمبر 541/26 درج کر لیا گیا ہے۔
- سنگین دفعات شامل: مقدمے میں قتل کی سنگین ترین دفعہ 302 کے ساتھ ساتھ شواہد چھپانے اور معصوم بچے پر تشدد سے متعلق دیگر قانونی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مکمل تفتیش کے بعد مزید حقائق کو سامنے لا کر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے۔




