راولپنڈی/ کرائم ڈیسک: راولپنڈی میں 45 سالہ حنا جاوید کے ہولناک قتل کے معاملے پر ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ مقتولہ کی لاش باتھ روم میں شاور کے ساتھ اور ہاتھ بندھی ہوئی حالت میں ملی تھی. لاش کو دیکھتے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ ایک قتل ہے جسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے.
📌 آر پی او اور سی پی او کی پریس کانفرنس کے اہم انکشافات
- آر پی او راولپنڈی سرفراز الپا نے سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 20 اگست کو حنا جاوید کا بہیمانہ قتل کیا گیا.
- پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ گھر میں چور گھس آئے ہیں، جس پر پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور باتھ روم سے حنا جاوید کی لاش برآمد ہوئی.
- مقتولہ کی لاش شاور کے ساتھ بندھی ہوئی تھی جبکہ اس کے ہاتھ بھی پیچھے بندھے ہوئے تھے.
- ابتدائی طور پر لاش کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ قتل ہے جسے خودکشی کا روپ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے.
👮 قانونی کارروائی، مقدمے کا اندراج اور گرفتاریاں
- مقتولہ حنا جاوید کے بھائی فہد جاوید کی درخواست پر قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے.
- مقدمے میں مقتولہ کے شوہر فیصل فیاض، سسر اصغر فیاض، گھریلو ملازم ذیشان اور ایک نامعلوم شخص کو نامزد کیا گیا ہے.
- پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شوہر فیصل اور ملازم ذیشان کو گرفتار کر رکھا ہے جو اس وقت پولیس حراست میں ہیں.
- مقتولہ کے سسر اصغر فیاض کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے جن کے خلاف ٹھوس شواہد آنے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی.
🔍 سائنسی تفتیش اور تفتیشی مراحل
- ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو تمام زاویوں سے اپنا کام کر رہی ہے.
- تفتیش میں ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جنس سمیت تمام ذرائع بھرپور طریقے سے استعمال کیے جا رہے ہیں.
- ڈی این اے سمیت تمام سائنسی پہلوؤں سے مقدمے کی تفتیش کو میرٹ پر یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ حقائق کو یکسو کیا جا سکے.
- پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اور جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھے گی، جس کا جتنا کردار ہوگا اسے اس کے مطابق نامزد کیا جائے گا.




