ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

صحت

بریسٹ کینسر سے آگاہی: علامات کو نظر انداز نہ کریں

بریسٹ کینسر سے آگاہی: علامات کو نظر انداز نہ کریں
Spread the love

تحریر و تحقیق ۔۔ صالحہ کامران

چھاتی کا کینسر (بریسٹ کینسر) دنیا بھر میں خواتین میں پھیلنے والے سب سے عام کینسرز میں سے ایک ہے۔ ہر سال اکتوبر کا مہینہ عالمی سطح پر “بریسٹ کینسر سے آگاہی کے مہینے” (Pink October) کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ اس بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج کی اہمیت اجاگر کی جا سکے—کیونکہ بروقت تشخیص ہی اس کا علاج اور زندگی کی ضمانت ہے۔

​اگر اس بیماری کی شروعات میں ہی تشخیص کر لی جائے تو شفایابی کے امکانات 90 فیصد سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔ تاہم، آگاہی کی کمی اور جھجک کی وجہ سے اکثر خواتین ابتدائی علامات کو نظر انداز کر دیتی ہیں، جس سے بیماری پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

بریسٹ کینسر کی بنیادی علامات

​بریسٹ کینسر کی علامات ہر خاتون میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ ذیل میں درج ذیل علامات نظر آتے ہی فوری طور پر لیڈی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے:

  1. ​گلٹی یا سخت ابھار: چھاتی یا بغل (underarm) کے پاس کسی بھی قسم کا نیا ابھار یا گلٹی محسوس ہونا، چاہے اس میں درد ہو یا نہ ہو۔
  2. ​سائز یا بناوٹ میں تبدیلی: چھاتی کے سائز، شکل یا ظاہری بناوٹ میں اچانک غیر معمولی تبدیلی آنا۔
  3. ​جلد میں تبدیلی: جلد پر سوجن، سرخی، گڑھے (dimpling) پڑنا یا جلد کا مالٹے کے چھلکے کی طرح نظر آنا۔
  4. ​مرکزی حصے میں تبدیلیاں: مرکزی حصے کی ساخت کا اندر کی طرف دھنس جانا، یا ارد گرد کی جلد کا چھلنا اور خارش ہونا۔
  5. ​غیر معمولی ترشح (Discharge): مرکزی حصے سے خون یا کسی بھی غیر معمولی مائع کا خودبخود نکلنا۔

کن عوامل سے خطرہ بڑھ سکتا ہے؟
عمر میں اضافہ، خاندان میں بریسٹ کینسر کی تاریخ اور بعض موروثی جینیاتی عوامل خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جسمانی سرگرمی کی کمی اور موٹاپا بھی بعض افراد میں خطرے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

بروقت تشخیص اور خود اپنے معائنے کی اہمیت

​ہر خاتون کو مہینے میں ایک بار خود اپنا معائنہ (Self-Examination) لازمی کرنا چاہیے۔ اس کا طریقہ انتہائی آسان ہے:

  • ​شیشے کے سامنے دیکھنا: جلد کی رنگت، بناوٹ یا شکل میں کسی بھی تبدیلی کا جائزہ لیں۔
  • ​لمس سے محسوس کرنا: لیٹ کر یا نہاتے وقت ہاتھ کی انگلیوں سے چھاتی اور بغل کے حصے کو ہلکے سے دبا کر کسی گلٹی یا سختی کی جانچ کریں۔

​40 سال سے زائد عمر کی خواتین کو ڈاکٹر کے مشورے سے سالانہ میموگرام (Mammogram) ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے۔

بچاؤ اور صحت مند طرزِ زندگی

​اگرچہ بریسٹ کینسر کی تمام وجوہات معلوم نہیں، لیکن کچھ صحت مند عادتیں اس کے خطرے کو کافی حد تک کم کر سکتی ہیں:

  • ​متوازن غذا: ہری سبزیوں، پھلوں اور فائبر سے بھرپور غذا کا استعمال کریں۔
  • ​جسمانی تروتازگی: روزانہ کم از کم 30 منٹ پیدل چلیں یا ہلکی ورزش کریں۔
  • ​وزن پر قابو: بڑھتے ہوئے وزن کو کنٹرول میں رکھیں۔
  • ​شیرخوارگی (Breastfeeding): مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلائیں، یہ عمل بریسٹ کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

خواتین کے لیے اہم پیغام
اپنی صحت کو ترجیح دیں اور جسم میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں پر توجہ دیں۔ اگر کوئی تبدیلی مسلسل برقرار رہے یا تشویش کا باعث بنے تو مستند ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ بریسٹ کینسر کے بارے میں درست معلومات پھیلانا بھی بیماری کے خلاف آگاہی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

نتیجہ

​بریسٹ کینسر کوئی قابلِ شرم بات نہیں، بلکہ ایک طبی مسئلہ ہے جس کا علاج ممکن ہے۔ کسی بھی علامت کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں اور نہ ہی خوفزدہ ہوں۔ اپنوں کی حفاظت کے لیے آگاہی پھیلائیں، کیونکہ آپ کی تھوڑی سی توجہ اور بروقت قدم ایک قیمتی زندگی بچا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *