ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

صحت

ہاتھ پاؤں سن ہونے کی عام وجوہات کیا ہوسکتی ہیں؟

ہاتھ پاؤں سن ہونے کی عام وجوہات کیا ہوسکتی ہیں؟
Spread the love

تحریر و تحقیق ۔۔ صالحہ کامران

ہاتھ یا پاؤں کا سُن ہونا ایک ایسا احساس ہے جس کا تجربہ زندگی میں کبھی نہ کبھی تقریباً ہر شخص کو ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ احساس کچھ دیر کے لیے سو کر اٹھنے یا ایک ہی پوزیشن میں طویل عرصے تک بیٹھنے کی وجہ سے ہوتا ہے اور خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ مسئلہ بار بار پیش آئے یا مسلسل رہے، تو یہ جسم میں کسی اندرونی پیچیدگی کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

​اس بلاگ میں ہم ہاتھ پاؤں سُن ہونے کی بنیادی وجوہات، اس کی ممکنہ علامات اور اس سے بچاؤ کے طریقے تفصیل سے جانیں گے۔

ہاتھ پاؤں سُن ہونے کی بنیادی وجوہات

جب جسم کے کسی حصے کی اعصاب (Nerves) پر دباؤ پڑتا ہے یا وہاں تک خون کی فراہمی میں رکاوٹ آتی ہے، تو وہ حصہ سُن ہو جاتا ہے۔ اس کی چند عام وجوہات درج ذیل ہیں:

ایک ہی پوزیشن میں زیادہ دیر بیٹھنا یا لیٹنا، ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے، ہاتھ کے نیچے سر رکھ کر سونے یا ایک ہی حالت میں دیر تک رہنے سے اعصاب پر دباؤ آتا ہے اور خون کی گردش متاثر ہوتی ہے۔

وٹامنز کی کمی (خاص طور پر وٹامن B12)

وٹامن B12 ہمارے اعصابی نظام کو صحت مند رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جسم میں اس وٹامن یا وٹامن B6 اور E کی کمی اعصاب کو کمزور کر دیتی ہے، جس سے ہاتھ پاؤں سُن ہونے یا چیونٹیاں رینگنے کا احساس ہوتا ہے۔

ذیابیطس (Diabetes / Neuropathy)

شوگر کے مریضوں میں وقت کے ساتھ ساتھ خون میں گلوکوز کی زیادہ مقدار اعصاب کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس حالت کو “ڈائبیٹک نیورپیتھی” کہا جاتا ہے، جس کی پہلی علامت اکثر پیروں اور ہاتھوں کا سُن ہونا ہوتی ہے۔

کارپل ٹنل سنڈروم (Carpal Tunnel Syndrome)

جو لوگ زیادہ تر کمپیوٹر، ٹائپنگ یا موبائل کا استعمال کرتے ہیں، ان کی کلائی کی اعصاب پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے بالخصوص ہاتھ کی انگلیاں اور ہتھیلی سُن ہونے لگتی ہے۔

گردن یا کمر کی ڈسک کا مسئلہ (Herniated Disc)

ریڑھ کی ہڈی یا گردن کے مہروں کا اپنی جگہ سے ہل جانا یا ڈسک پر دباؤ آنا ہاتھوں یا پیروں تک جانے والی اعصاب کو متاثر کرتا ہے، جس سے سُن پن کا احساس ہو سکتا ہے۔

خون کی ناقص گردش (Poor Blood Circulation)

تنگ کپڑے پہننے، سردی کے اثرات یا اینیمیا (خون کی کمی) کے باعث جب جسم کے دور دراز حصوں (ہاتھوں اور پیروں) تک پورا خون نہیں پہنچ پاتا، تو سُن پن محسوس ہوتا ہے۔

ہاتھ پاؤں سُن ہونے کی دیگر علامات

​سُن پن کے ساتھ اکثر درج ذیل کیفیت بھی محسوس ہو سکتی ہے:

  • ​ہاتھوں یا پیروں میں چیونٹیاں رینگنے یا سوئی چبھنے جیسا احساس
  • ​متاثرہ حصے میں سوزش یا ٹھنڈک
  • ​گرفت کا کمزور ہونا (چیزی ہاتھ سے چھوٹ جانا)
  • ​پیروں میں تھکن یا چلنے میں دشواری

گھریلو علاج اور بچاؤ کی تدابیر

  • ​پوزیشن تبدیل کریں: اگر بیٹھنے یا لیٹنے سے سُن پن ہو تو فوراً پوزیشن بدلیں اور ہلکی قدم قدمی کریں۔
  • ​متوازن غذا کا استعمال: اپنی خوراک میں وٹامن B12 اور دیگر غذائی اجزاء سے بھرپور اشیاء شامل کریں جیسے انڈے، دودھ، مچھلی، سبزیاں اور مغزیات۔
  • ​باقاعدہ ورزش: روزانہ ہلکی ورزش یا واک کرنے سے جسم میں خون کی گردش بہتر ہوتی ہے۔
  • ​پانی کا مناسب استعمال: جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں تاکہ اعصاب اپنا کام درست طریقے سے کر سکیں۔
  • ​موبائل اور لیپ ٹاپ کا درست استعمال: کام کے دوران وقفہ لیں اور کلائیوں یا گردن پر زیادہ دباؤ نہ ڈالیں۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
​اگرچہ زیادہ تر معاملاں میں یہ مسئلہ معمولی ہوتا ہے، لیکن درج ذیل حالات میں ڈاکٹر کو دکھانا انتہائی ضروری ہے:
​سُن پن مسلسل قائم رہے یا وقت کے ساتھ بڑھتا جائے۔
​اس کے ساتھ جسم کے کسی حصے میں شدید کمزوری یا فالج جیسا اثر محسوس ہو۔
​بولنے میں دشواری، نظر کا دھندلا ہونا یا چکر آنا شروع ہو جائے۔
​سُن پن بغیر کسی ظاہری وجہ کے بار بار ہو۔

سن پن سے روز مرہ کے کام کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

نتیجہ (Conclusion)

ہاتھ پاؤں کا کبھی کبھار سُن ہونا تشویش ناک نہیں ہوتا، لیکن اسے مستقل طور پر نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔ اپنی روزمرہ کی عادات اور خوراک میں بہتری لا کر اس مسئلے سے بچا جا سکتا ہے۔ اگر مسئلہ برقرار رہے تو بروقت طبی معائنہ کروائیں تاکہ کسی بھی بنیادی بیماری کا بروقت علاج ممکن ہو سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *