تاریخ / مقام: پشاور / اسلام آباد
قومی و سیاسی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
پشاور میں لانگ مارچ کے شرکاء سے پرجوش خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ (مخالفین) گولی چلائیں گے تو ہم اپنے سینے پیش کریں گے، ان کی کوشش ہے کہ ہم کوئی غیر آئینی اقدام کریں لیکن ہماری جدوجہد آئین اور قانون کے اندر رہ کر ہوگی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مشرقی پاکستان کو الگ کرنے والے عناصر اب صوبے میں گورنر راج لگانے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ لانگ مارچ باڑہ خیبر سے روانہ ہو کر پشاور میں داخل ہوا جہاں حیات آباد ٹول پلازہ، بھانہ ماڑی چونگی، کوہاٹی گیٹ اور کبوتر چوک سمیت مختلف مقامات پر شاندار استقبال کیا گیا۔
”پاکستان کو توڑنے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے“
وزیراعلیٰ کے پی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ لوگ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، مگر ہم پاکستانی تھے، ہیں اور رہیں گے۔ ہم کسی کے بیانیے کا حصہ نہیں بنیں گے اور ملک کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا لیڈر قومی یکجہتی کی علامت ہے، میں نے اپنے مطالبات پیش کر کے چیلنج کیا کہ ان میں سے ایک بھی غیر قانونی ثابت کر کے دکھائیں، مگر مخالفین ناکام رہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان سے ملٹری آپریشن، ایمرجنسی اور ڈرون حملوں کی اجازت مانگی گئی لیکن نیت میں فتور ہونے کی وجہ سے انہوں نے صاف انکار کر دیا کیونکہ یہ لوگ دہشت گردی کے خاتمے سے زیادہ پی ٹی آئی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
صوبائی کارکردگی اور مرکز پر کڑی تنقید
کے پی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے میں جدید تقاضوں کے مطابق ای گورننس کو فروغ دیا گیا جس پر ڈیجیٹل گورننس ایوارڈ ملا، لیکن ہم نے یہ ایوارڈز لینے کے لیے سرکاری جہاز استعمال نہیں کیے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق ملک کی 48 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے اور فی کس آمدنی تین ڈالر سے کم ہے، اس کے باوجود حکمران ترقی کے دعوے کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے اربوں روپے کی کرپشن کی اور بیرون ملک جزیرے خریدے، وہ خود کو سمجھ دار اور عوام کو ناسمجھ سمجھتے ہیں۔
لانگ مارچ کا اگلا لائحہ عمل اور عزمِ نو
موبایل سگنلز کی بندش اور رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری آواز دبانے کے لیے کئی روز سے سگنلز بند کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی ’کانپیں ٹانگ رہی ہیں‘۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم صوابی کی طرف نکلیں گے اور ان کی نیندیں حرام کر دیں گے۔ یہ نوجوانوں کا فیصلہ کن مارچ ہے جس میں واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ناحق قید میں ہیں لیکن انہیں لاکھ کوششوں کے باوجود جھکایا نہیں جا سکا، ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بانی چیئرمین کو باہر لانا ناگزیر ہے۔
G24 News Online سیاسی ہلچل، قومی امور اور تمام اہم خبریں اپنے قارئین تک حقائق کے ساتھ بروقت پہنچاتا رہے گا۔




