ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

خیبرپختونخوا میں اب تک کتنی مرتبہ گورنر راج رہا؟ تاریخی حقائق اور ماضی کے ادوار سامنے آ گئے! 🏛️🔍

خیبرپختونخوا میں اب تک کتنی مرتبہ گورنر راج رہا؟ تاریخی حقائق اور ماضی کے ادوار سامنے آ گئے! 🏛️🔍
Spread the love

تاریخ / مقام: پشاور / اسلام آباد

قومی و سیاسی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے وفاقی کابینہ کی تجویز اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی رپورٹ کی روشنی میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ اس نفاذ کے ساتھ ہی اختیارات منتخب صوبائی حکومت سے گورنر کو منتقل ہو گئے ہیں۔ تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا یہ نفاذ پہلی مرتبہ نہیں بلکہ چوتھی مرتبہ کیا گیا ہے۔

ماضی میں صوبے کے سیاسی اور انتظامی بحرانوں کے دوران کب کب گورنر راج نافذ ہوا، اس کی تاریخی تفصیلات درج ذیل ہیں:

1. پہلی مرتبہ گورنر راج (1975ء)

خیبرپختونخوا (اس وقت کے صوبہ سرحد) میں پہلی بار گورنر راج ذوالفقارعلی بھٹو کی مرکزی حکومت کے دور میں 1975ء میں نافذ کیا گیا۔ اس وقت کے پی کے وزیر داخلہ حیات محمد خان شیرپاؤ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں ایک تقریب کے دوران بم دھماکے کا نشانہ بن کر شہید ہو گئے تھے۔ اس المناک واقعے کے بعد مرکزی حکومت نے نیشنل عوامی پارٹی (NAP) پر پابندی عائد کرتے ہوئے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی اور گورنر راج قائم کر کے بڑے پیمانے پر سیاسی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔

2. دوسری مرتبہ گورنر راج (1994ء)

صوبے میں دوسری بار گورنر راج 1994ء میں بینظیر بھٹو کی مرکزی حکومت کے دور میں نافذ ہوا۔ یہ اقدام مسلم لیگ (ن) کے اس وقت کے وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ کی حکومت کے خلاف کیا گیا۔ اس دوران سیاسی رسہ کشی کے نتیجے میں اراکین اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کرانے اور انہیں منظر سے ہٹانے کے واقعات پیش آئے، جس کے بعد پیر صابر شاہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی اور صوبے میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے اپنی حکومت قائم کی۔

3. تیسری مرتبہ گورنر راج (1999ء)

تیسری بار صوبے میں گورنر راج 1999ء میں سابق فوجی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد نافذ ہوا۔ اس وقت کے مسلم لیگ (ن) کے دور کے گورنر میاں گل اورنگزیب کو ان کے عہدے سے ہٹا کر لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد شفیق کو صوبے کا نیا گورنر مقرر کیا گیا اور تمام انتظامی اختیارات ان کے سپرد کر دیے گئے۔

4. چوتھا اور موجودہ گورنر راج (2026ء)

اب موجودہ دور میں خیبرپختونخوا میں چوتھی مرتبہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی حکومت کو معطل کرتے ہوئے گورنر راج کا نفاذ کیا گیا ہے، اور گورنر فیصل کریم کنڈی عبوری ایڈوائزری کابینہ کے ساتھ صوبے کا انتظام چلائیں گے۔

موجودہ گورنر راج اور ایمرجنسی کی منفرد نوعیت

تاریخی اعتبار سے موجودہ گورنر راج اس لحاظ سے انتہائی منفرد ہے کہ اس میں ساتھ ہی آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کا نفاذ کرتے ہوئے صوبے کے 12 اضلاع میں باضابطہ ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی ہے۔ ان بارہ اضلاع میں 8 ضم قبائلی اضلاع (خیبر، مہمند، کرم، اورکزئی، باجوڑ، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر) جبکہ 4 جنوبی اضلاع (ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت) شامل ہیں۔

انتظامی دائرہ کار کے مطابق ایمرجنسی کا نفاذ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژنز میں مکمل جبکہ پشاور، کوہاٹ اور ملاکنڈ ڈویژنز میں جزوی طور پر ہوگا، جبکہ ہزارہ اور مردان ڈویژنز اس ایمرجنسی سے مکمل طور پر مستثنیٰ رہیں گے۔

G24 News Online ملکی سیاسی تاریخ، تنازعات اور تمام بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *