ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

سانحہ پشاور اسکول کا دل دہلا دینے والا واقعہ؛ 21 سال بعد پیدا ہونے والا 10 سالہ اکلوتا عبدالبصیر بھی شہید! 🥀🕊️

سانحہ پشاور اسکول کا دل دہلا دینے والا واقعہ؛ 21 سال بعد پیدا ہونے والا 10 سالہ اکلوتا عبدالبصیر بھی شہید! 🥀🕊️
Spread the love

تاریخ / مقام: پشاور / اسلام آباد

قومی و انسانی ہمدردی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

پشاور کی دیر کالونی میں واقع نجی اسکول کی عمارت گرنے کے المناک سانحے نے جہاں درجنوں گھرانوں کے چراغ گل کر دیے ہیں، وہاں ایک اور انتہائی دردناک اور رقت انگیز داستان سامنے آئی ہے۔ اسکول کی چھت گرنے کے حادثے میں شادی کے 21 سال بعد پیدا ہونے والا 10 سالہ اکلوتا عبدالبصیر بھی اپنی زندگی کی بازی ہار گیا ہے۔

21 سالہ منتوں کا ثمر اور والدین کی آنکھوں کا تارا

خاندانی ذرائع اور نیوز رپورٹس کے مطابق 10 سالہ عبدالبصیر اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا، جو مسلسل 21 سال کی لمبی منتوں اور دعاؤں کے بعد پیدا ہوا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ عبدالبصیر کو انتہائی ناز و نخرے اور بے پناہ محبت سے پالا جا رہا تھا۔

عبدالبصیر نہ صرف اپنے والدین کی آنکھوں کا تارا تھا بلکہ اپنے اخلاق، پیار اور شائستہ رویے کے باعث تمام رشتہ داروں اور عزیز و اقارب کا بھی بے حد پیارا تھا۔

“گھر آتے ہی مجھ سے لپٹ جاتا تھا” — والد کا زار و قطار روتے ہوئے بیان

اکلوتے بیٹے کی اچانک جدائی نے والدین کو شدید صدمے سے نڈھال کر دیا ہے۔ عبدالبصیر کے والد نے بھیگی آنکھوں اور کاپتی آواز کے ساتھ اپنے معصوم بیٹے کو یاد کرتے ہوئے بتایا:

“میں جب بھی شام کو کام سے تھکا ہار گھر لوٹتا تو عبدالبصیر دوڑ کر مجھ سے لپٹ جاتا تھا، وہ میری تمام تھکن منٹوں میں دور کر دیتا تھا… مجھے کیا معلوم تھا کہ میری 21 سال کی دعاؤں کا ثمر اتنی جلدی مجھ سے چھین لیا جائے گا”۔

علاقے میں سوگ کا سماں اور ہر آنکھ اشکبار

اس افسوسناک اور بھیانک حادثے میں نہ صرف عبدالبصیر بلکہ اس کی کلاس کے دیگر ہم جماعت اور دوست بھی شہادت کے مقام پر پہنچ گئے۔ اس ہولناک سانحے کے بعد دیر کالونی اور گردونواح کے پورے علاقے میں انتہائی غم و اندوہ کا سماں ہے اور جاں بحق بچوں کے گھروں سے اٹھنے والے بین دیکھ کر ہر دیکھنے والے کی آنکھیں اشکبار ہیں۔

G24 News Online سانحہ پشاور کے متوقع متاثرین، ہیلتھ اپ ڈیٹس اور تمام اہم قومی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *