بغداد/ بین الاقوامی ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان عراقی حکومت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ عراق کسی بھی فریق کو اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف حملے یا فوجی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین یا فضائی حدود استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔
📌 اہم بیانات اور دورے کے تفصیلات:
- ایئر ڈیفنس کمانڈ کا دورہ: عراقی میڈیا کے مطابق وزیراعظم علی الزیدی نے یہ اہم بیان عراق کے ایئر ڈیفنس کمانڈ آپریشنز سینٹر کے دورے کے دوران دیا، جہاں انہوں نے ملک کی موجودہ فضائی دفاعی صلاحیتوں اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔
- اصول اور پالیسی: وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق کی بنیادی پالیسی اپنی خودمختاری کے تحفظ، علاقائی سلامتی اور تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے اور پرامن تعلقات استوار رکھنے کے اصول پر قائم ہے۔
- علاقائی تنازعات سے لاتعلقی: مبصرین کے مطابق، اس پالیسی کا بنیادی مقصد عراق کو مشرق وسطیٰ کے جاری تنازعات میں براہ راست فریق بننے سے بچانا اور ملکی امن کو برقرار رکھنا ہے۔
🛡️ فضائی دفاعی نظام کی مضبوطی اولین ترجیح
موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں عراقی حکام کا کہنا ہے کہ:
- سخت نگرانی: عراق جغرافیائی اعتبار سے انتہائی حساس اور اہم مقام رکھتا ہے، جہاں کی سرحدیں کئی ایسے ممالک سے ملتی ہیں جو موجودہ خطے کی کشیدگی سے براہ راست متاثر ہیں۔
- دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ: اسی نوعیت کے چیلنجز کے پیش نظر فضائی حدود کی کڑی نگرانی اور دفاعی نظام کو مزید جدید خطوط پر استوار کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
- تجزیہ کاروں کی رائے: ماہرین کے مطابق، عراق کی فضائی دفاعی صلاحیت میں بہتری اور سخت سیکیورٹی انتظامات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ کسی بھی غیر مجاز فوجی سرگرمی کو روک کر ملک کو کسی بڑی آفت یا جنگی لپیٹ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
#G24News #Iraq #AliAlZaidi #MiddleEastTension #AirDefense #Baghdad #UrduNews #G24NewsOnline




