تاریخ / مقام: واشنگٹن
بین الاقوامی و سیاسی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے اہم ترین وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) سے قبل سیاسی میدان گرما چکا ہے، جہاں سینیٹ کی 10 انتہائی اہم نشستیں سخت ترین مقابلوں کا مرکز بن چکی ہیں اور حکمراں جماعت ریپبلکن پارٹی کو ان پر شکست کا واضح خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
معروف امریکی نشریاتی ادارے سی این این (CNN) کے تازہ ترین تجزیے کے مطابق، ایران کے ساتھ جاری تنازع کے معاشی اثرات، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت کا گراف براہِ راست انتخابی مہم پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ موجودہ سیاسی حالات میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کو صدر ٹرمپ کے حامی ریپبلکن امیدواروں پر نمایاں سبقت حاصل ہوتی نظر آ رہی ہے۔
اہم ریاستوں میں کانٹے کے مقابلے
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، جن 10 کلیدی نشستوں پر سخت ترین مقابلے متوقع ہیں ان میں درج ذیل ریاستیں سرفہرست ہیں:
- شمالی کیرولائنا: ڈیموکریٹ امیدوار رائے کوپر اپنے حریف مائیکل واٹلی کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہیں۔
- اوہائیو اور الاسکا: اوہائیو میں سابق سینیٹر شیروڈ براؤن اور جون ہسٹڈ کے درمیان جبکہ الاسکا میں میری پیلٹولا اور ڈین سلیوان کے مابین کانٹے کا مقابلہ ہے۔
- مین اور ٹیکساس: مین میں ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کو ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن سے سخت چیلنج کا سامنا ہے، جبکہ ٹیکساس میں جیمز ٹالاریکو اور کین پیکسٹن کے درمیان بھی انتہائی قریبی دوڑ جاری ہے۔
- مشی گن، آئیووا اور کنساس: مشی گن میں عبدالسید اور مائیک راجرز، آئیووا میں جوش ٹورک اور ایشلے ہنسن، جبکہ کنساس میں ایڈم ہیملٹن اور راجر مارشل کے درمیان سخت مقابلے دیکھے جا رہے ہیں۔
- نیو ہیمپشائر اور جارجیا: نیو ہیمپشائر میں کرس پاپاس اور جان سنونو جبکہ جارجیا میں جون اوسوف اور مائیک کولنز کے مابین معرکہ آرائی جاری ہے۔
علاوہ ازیں، سی این این نے نیبراسکا، جنوبی کیرولائنا، مینیسوٹا اور مسیسیپی کو بھی ایسی غیر یقینی ریاستوں میں شمار کیا ہے جہاں پولنگ کے دن الیکشن کے نتائج حیرت انگیز اور غیر متوقع آ سکتے ہیں۔ ان انتخابات سے یہ فیصلہ ہوگا کہ کانگریس کے ایوانِ بالا (سینیٹ) میں کس سیاسی جماعت کو برتری اور کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔
آخری دو ہفتوں میں 30 کروڑ ڈالر سے زائد کے اخراجات
رپورٹ کے مطابق، ان 10 اہم نشستوں پر انتخابی تشہیر اور ووٹرز کو لبھانے کے لیے دونوں بڑی جماعتیں الیکشن سے قبل کے آخری دو ہفتوں میں مجموعی طور پر 30 کروڑ ڈالر سے زائد کی خطیر رقم جھونک رہی ہیں، اور زمینی حقائق کے مطابق فی الحال پلڑا ڈیموکریٹس کا بھاری نظر آ رہا ہے۔
تاہم، سی این این نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ یہ درجہ بندی تازہ ترین انتخابی جائزوں اور موجودہ سیاسی اتار چڑھاؤ پر مبنی ہے، اور 3 نومبر کو ووٹنگ کا دن قریب آنے تک صورتحال میں تبدیلیاں بھی رونما ہو سکتی ہیں۔
G24 News Online عالمی سیاست، امریکی انتخابات، اور تمام اہم بین الاقوامی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




