امن کا نوبیل انعام 2026 جنوبی افریقا کی انسانی حقوق کی علمبردار نوی پلے کے نام، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر محروم
تاریخ / مقام: اوسلو / واشنگتن
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
سویڈن کی رائل سوئیڈش نوبیل کمیٹی نے سال 2026 کے لیے باوقار نوبیل امن انعام کا اعلان کر دیا ہے۔ رواں برس یہ اعزاز امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دینے پر اقوام متحدہ کی سابق انسانی حقوق کمشنر نوی پلے کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے خود کو اس انعام کا سب سے بڑا حقدار قرار دیا تھا، ایک بار پھر اس اعزاز سے محروم رہ گئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے اور توقعات
قبل ازیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ وہ نوبیل انعام کے مکمل حقدار ہیں کیونکہ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد دنیا بھر میں 8 جنگیں ختم کروائی ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسے کارنامے انجام دیے ہیں جو اس سے قبل کسی امریکی صدر نے نہیں کیے، اور اگر انہیں امن انعام نہ دیا گیا تو یہ نوبیل کمیٹی کے لیے بھی باعثِ تنقید ہوگا۔ تاہم نوبیل کمیٹی نے ان کے تمام دعوؤں کو رد کرتے ہوئے انسانی حقوق کی خاطر طویل جدوجہد کرنے والی نوی پلے کو اس اعزاز کے لیے منتخب کیا۔
نوی پلے کون ہیں؟ نمایاں خدمات کا احاطہ
نوبیل امن انعام حاصل کرنے والی نوی پلے کا تعلق جنوبی افریقا کے شہر ڈربن سے ہے، جہاں انہوں نے نسل پرستی (Apartheid) کے سیاہ دور میں انسانی حقوق کے لیے اپنی عملی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ ان کی زندگی کے چند اہم سنگِ میل درج ذیل ہیں:
- تاریخی سنگِ میل: نوی پلے 1967 میں جنوبی افریقا کے صوبے ناتال میں وکالت کا باقاعدہ دفتر قائم کرنے والی پہلی خاتون بنیں، جبکہ وہ ملک میں ہائی کورٹ کی جج مقرر ہونے والی پہلی غیر سفید فام خاتون کا اعزاز بھی رکھتی ہیں۔
- بین الاقوامی ٹریبونلز میں خدمات: انہوں نے روانڈا میں نسل کشی سے متعلق بین الاقوامی ٹریبونل میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور چار سال تک اس کی کامیاب سربراہی کی۔
- مقبوضہ فلسطین اور میانمار کیسز: وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں، اور اس وقت میانمار کے خلاف نسل کشی کے مقدمے میں عالمی عدالت انصاف (ICJ) کی جج کے طور پر فرائض انجام دے رہی ہیں۔
دلچسپ تبصرہ اور نوبیل انعام کی تاریخ
نوبیل کمیٹی کے چیئرمین یورگن واٹنے فریڈنس نے انعام کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تاحال نوی پلے سے رابطہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ انہوں نے ہنستے ہوئے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ “اگر انہیں ناروے کے کسی نمبر سے کال آئے تو وہ اسے ضرور وصول کریں۔”
واضح رہے کہ نوبیل امن انعام کا آغاز 1901 میں ہوا تھا، اور ماضی میں مدر ٹریسا، ملالہ یوسفزئی اور باراک اوباما جیسی عالمی شخصیات بھی یہ اعزاز اپنے نام کر چکی ہیں۔
G24 News Online بین الاقوامی سفارت کاری، عالمی شخصیات اور تمام اہم دنیا بھر کی خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک پہنچاتا رہے گا۔




