بین الاقوامی ڈیسک: دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کے نقصانات سے متعلق ایک نئی اور اہم تحقیق سامنے آئی ہے، جس کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں تمباکو نوشی کے انسانی صحت پر پڑنے والے اثرات سے متعلق عوامی آگاہی میں انتہائی معمولی بہتری آئی ہے اور اب بھی اس حوالے سے ایک بڑا خلا موجود ہے۔
📌 تحقیق کے اہم نکات اور تشویشناک حقائق
- تحقیق کا دائرہ کار: دنیا کے 46 ممالک میں 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد سگریٹ نوش افراد پر کی جانے والی اس تحقیق میں حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔
- کینسر بمقابلہ دل کی بیماریاں: زیادہ تر سگریٹ نوش افراد اس بات سے تو بخوبی آگاہ ہیں کہ تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے، تاہم دل کی بیماریوں، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے سنگین اور جان لیوا خطرات سے متعلق عوام میں آگاہی کا تناسب اب بھی بہت کم ہے۔
- سیکنڈ ہینڈ اسموک (دھویں کے اثرات): تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بہت سے افراد اس حقیقت سے بھی پوری طرح لاعلم ہیں کہ سگریٹ کا دھواں صرف پینے والے کے لیے نہیں بلکہ اردگرد موجود دوسرے افراد (سیکنڈ ہینڈ اسموک) کے لیے بھی دل کی بیماریوں اور فالج کا خطرہ بن سکتا ہے۔
⚠️ ماہرین کی تشویش اور خوفناک اعداد و شمار
- جرنل بی ایم جے اوپن کی رپورٹ: یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے ’بی ایم جے اوپن‘ میں شائع ہوئی ہے۔ اس کے مطابق گرافک وارننگز، تمباکو کنٹرول پالیسیوں اور طویل عرصے سے جاری عوامی مہمات کے باوجود معلومات کا یہ خلا بدستور برقرار ہے۔
- مرکزی مصنفہ کا بیان: یونیورسٹی آف واٹرلو کے انٹرنیشنل ٹوبیکو کنٹرول پالیسی ایویلیوایشن پروجیکٹ سے وابستہ سائنس دان اور تحقیق کی مرکزی مصنفہ جینیٹ چنگ ہال نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔
- سالانہ اموات: طبی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 20 لاکھ سے زائد اموات صرف تمباکو نوشی سے متعلق قلبی (دل کی) بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں۔
- ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سگریٹ نوشی کے دل اور خون کی شریانوں پر مرتب ہونے والے ہولناک اثرات کے بارے میں عوامی سطح پر مزید مؤثر اور ہنگامی نوعیت کی آگاہی مہمات چلانے کی ضرورت ہے۔




