Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

🔫 لاہور پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ: واردات کیسے انجام پائی؟ سنسنی خیز خصوصی رپورٹ کے تمام راز سامنے آگئے

🔫 لاہور پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ: واردات کیسے انجام پائی؟ سنسنی خیز خصوصی رپورٹ کے تمام راز سامنے آگئے
Spread the love

لاہور/ کرائم ڈیسک: صوبائی دارالحکومت لاہور میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے ہولناک واقعات کی تحقیقات کے سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک جامع اور خصوصی رپورٹ مرتب کر لی ہے۔ اس رپورٹ میں ملزمان کی جانب سے کی گئی خطرناک منصوبہ بندی، نقل و حرکت کے روٹس اور فائرنگ کے مناظر کی ایک ایک سیکنڈ کی تفصیلات بے نقاب ہو گئی ہیں۔

📌 بادامی باغ کا پہلا حملہ اور فرار کا راستہ

  • واردات کا وقت اور مقام: پولیس رپورٹ کے مطابق ٹارگٹ کلرز ریحان، فیاض بٹ اور طارق نے شام 6 بج کر 38 منٹ پر بادامی باغ کے علاقے میں پیشے خان چوک کے قریب اندھا دھند فائرنگ کی۔
  • شہادتیں اور ہتھیار: اس پہلے حملے میں سفاک ملزمان نے کلاشنکوف کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے ایک سب انسپکٹر اور کانسٹیبل کو شہید کیا۔
  • فرار کی حکمت عملی: گھناؤنی واردات کو انجام دینے کے بعد ملزمان نے فوری طور پر رکشے کا سہارا لیا اور تقریباً 16 کلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کرکے ایک مخصوص مقام کی طرف روانہ ہوئے، اور رات 7 بج کر 59 منٹ پر کالعدم تنظیم کے مرکز کے باہر پہنچے۔

⛽ پیٹرول پمپ پر دوسرا بہوحشیانہ حملہ

  • کانسٹیبل پر براہ راست فائرنگ: رپورٹ کے مطابق باپ اور بیٹے سمیت تین ملزمان نے ٹھیک 7 بج کر 59 منٹ اور 27 سیکنڈ پر ملتان روڈ پر واقع ایک پیٹرول پمپ پر موجود کانسٹیبل کو خون میں نہلا دیا۔ ظالم ٹارگٹ کلر کانسٹیبل کے زمین پر گرنے کے باوجود اس کے اوپر کھڑا ہو کر مسلسل فائرنگ کرتا رہا۔
  • ہوائی فائرنگ اور لوکیشن ٹریکنگ: ملتان روڈ سے فرار ہوتے ہوئے مرکزی ملزم ریحان نے رات 7 بج کر 59 منٹ اور 44 سیکنڈ پر سڑک پر خوف و ہراس پھیلانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے رات 9 بج کر 3 منٹ پر ملزمان کے زیرِ استعمال گاڑی کی حتمی لوکیشن بھی کامیابی سے ٹریک کر لی۔

🕵️‍♂️ پولیس کا مؤقف اور تحقیقاتی پیش رفت

پولیس رپورٹ میں یہ ہولناک انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ لاہور میں پولیس اہلکاروں کی یہ ٹارگٹ کلنگ کوئی اچانک واقعہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ اور سوچی سمجھی دہشت گردی کی منصوبہ بندی تھی، جس کے تحت وقت، دن اور اہداف کا پہلے سے گہرا تعین کیا گیا تھا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ وہ ان خطرناک ٹارگٹ کلرز کے نیٹ ورک کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں اور بہت جلد اس گھناؤنے مکروہ نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *