اسلام آباد: سینیٹ کا اجلاس سینیٹر منظور قادر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی، سیلاب متاثرین کے فنڈز اور فاٹا، پاٹا و بلوچستان میں ٹیکسوں کے نفاذ جیسے اہم قومی مسائل پر بحث کی گئی۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ حکومت سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل عمل درآمد کرے گی۔
📌 بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی: حکومت کا مؤقف
سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے جو فیصلہ دیا ہے، حکومت اس پر من و عن عمل کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے پاس جیل سے لوگوں کو رہائی دینے کا اختیار نہیں، معاملہ عدالتوں کا ہے اور عدالتیں ہی اصل راستہ ہیں۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے پارٹی ورکرز سے اپیل کی کہ وہ الشفاء اسپتال کے باہر کسی قسم کا مجمع نہ لگائیں اور نہ ہی کوئی ایسا اقدام کریں جس سے حکومت کو عمل سبوتاژ کرنے کا موقع ملے۔
📌 فاٹا، پاٹا اور بلوچستان میں ٹیکس: حکومت اور اپوزیشن کا آمنا سامنا
سینیٹ میں ضم شدہ اضلاع (فاٹا، پاٹا) اور بلوچستان میں ٹیکسوں کے نفاذ پر بحث کے دوران ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
- عطاالرحمان: سینیٹر عطاالرحمان نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے 100 ارب روپے کا وعدہ پورا نہیں ہوا، الٹا ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
- بلال اظہر کیانی: وزیر مملکت برائے خزانہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس استثنیٰ کا غلط استعمال کیا جا رہا تھا، تاہم حکومت مشاورت کے لیے تیار ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو سن کر فیصلہ کیا جائے گا۔
- رانا ثناء اللہ: انہوں نے کہا کہ دیگر چیمبرز کے دباؤ کے پیش نظر ٹیکس کے معاملے پر قانون سازی ضروری تھی کیونکہ تاجر طبقہ بے چینی کا شکار تھا۔
- مولانا عبدالواسع: انہوں نے بلوچستان میں ٹیکس کے نفاذ اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے زمینوں کے الاٹمنٹ پر سخت احتجاج کیا اور کہا کہ انگریز دور کی مراعات بھی واپس لے لی گئی ہیں۔
📌 سیلاب متاثرین کے فنڈز میں خرد برد کے الزامات
سینیٹر جان محمد نے نکتہ اعتراض پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ گزشتہ سال مون سون کے دوران پاکستان کی مدد کے لیے ملنے والے 115 ملین ڈالر کے فنڈز کو درست طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 86 ہزار گھر بنانے کے بجائے حکومت نے منصوبہ تبدیل کر کے سڑکیں بنانا شروع کر دیں، جبکہ ورلڈ بینک نے یہ فنڈز متاثرین کے گھروں کے لیے دیے تھے۔
📌 سینیٹ کی کارروائی: دیگر اہم پہلو
- اجلاس میں تاخیر: اجلاس مقررہ وقت سے 45 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔
- وقفہ سوالات: سوالات و جوابات کی چھپائی نہ ہونے کی وجہ سے وقفہ سوالات کو موخر کرنے کی تحریک سینیٹر شہادت اعوان نے پیش کی، جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
- این ایف سی ایوارڈ: ساتویں این ایف سی ایوارڈ پر عملدرآمد کی نگرانی سے متعلق 2024 کی پہلی ششماہی رپورٹ ایوان میں پیش کر دی گئی۔
- سیاسی درجہ حرارت: طارق فضل چوہدری نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے اعلان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کا راستہ کسی طرف نہیں لے کر جائے گا، مسائل سڑکوں پر نہیں پارلیمنٹ اور عدالتوں میں حل ہونے چاہئیں۔




