Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

📉 آئی ایم ایف کا دباؤ: حکومت کا کاشتکاروں پر انکم ٹیکس لگانے کا فیصلہ، فکسڈ ٹیکس سکیم کا پلان تیار

📉 آئی ایم ایف کا دباؤ: حکومت کا کاشتکاروں پر انکم ٹیکس لگانے کا فیصلہ، فکسڈ ٹیکس سکیم کا پلان تیار
Spread the love

اسلام آباد/ اکنامک ڈیسک: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ معاملات طے کرنے اور معاشی اہداف کی تکمیل کے لیے حکومتِ پاکستان نے زرعی شعبے پر ٹیکسوں کا جال پھیلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی میں تاخیر پر آئی ایم ایف کے تحفظات کے بعد وفاقی حکومت نے اب کاشتکاروں اور زمینداروں پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے متبادل لائحہ عمل تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔

📌 آئی ایم ایف کے تحفظات اور حقائق

آئی ایم ایف کی جانب سے بارہا اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان میں زرعی ٹیکس کی وصولی کا نظام غیر مؤثر ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق:

  • معیشت میں حصہ: ملکی جی ڈی پی (GDP) میں زرعی شعبے کا حصہ 24.5 فیصد ہے۔
  • ٹیکس میں حصہ: قومی خزانے میں ٹیکس کی مد میں اس وسیع شعبے کی شراکت انتہائی معمولی یعنی محض 0.3 فیصد ہے۔ آئی ایم ایف کا موقف ہے کہ اتنے بڑے شعبے سے ٹیکس کا نہ آنا ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

🗓️ حکومت کی ڈیڈ لائن اور حکمتِ عملی

حکومت نے صوبائی حکومتوں کو زرعی ٹیکس وصولی کے حوالے سے ایک سخت ڈیڈ لائن دے دی ہے:

  • 30 ستمبر کا انتظار: وفاقی حکومت صوبوں سے زرعی انکم ٹیکس کے گوشواروں اور وصولی کے اہداف کا 30 ستمبر تک انتظار کرے گی۔
  • متبادل پلان (Alternative Plan): اگر 30 ستمبر تک صوبے مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو مرکز خود میدان میں اترے گا اور اپنے متبادل پلان پر عملدرآمد شروع کر دے گا۔

💸 فکسڈ ٹیکس سکیم: کتنا ٹیکس عائد ہوگا؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں صوبوں کے ساتھ مشاورت کے بعد وفاقی حکومت ایک ’فکسڈ ٹیکس سکیم‘ (Fixed Tax Scheme) متعارف کروا سکتی ہے۔

  • طریقہ کار: جس طرح تاجر طبقے کے لیے فکسڈ ٹیکس سکیم لائی گئی تھی، اسی طرز پر کاشتکاروں اور بڑے زمینداروں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔
  • ممکنہ شرح: مجوزہ پلان کے تحت فی ایکڑ 5 ہزار روپے تک انکم ٹیکس عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

یہ اقدام بظاہر آئی ایم ایف کے مطالبے کو پورا کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ معاشی استحکام کے لیے مطلوبہ ریونیو حاصل کیا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *