اسلام آباد/ قانونی ڈیسک: وفاقی حکومت نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم کے خلاف باضابطہ طور پر نظرثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔ یہ اہم قانونی قدم چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے توسط سے اٹھایا گیا ہے۔
📌 نظرثانی درخواست کے اہم قانونی نکات
حکومت کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ بعض بنیادی قانونی ضابطوں اور قواعد سے ہٹ کر ہے:
- جیل رولز کی مبینہ نظراندازی: درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ “پاکستان پرزن رولز 1978” (Pakistan Prison Rules, 1978) کے رول 197 میں کسی بھی قیدی کو اسپتال منتقل کرنے کا ایک واضح اور تفصیلی طریقہ کار درج ہے، لیکن سپریم کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے میں ان جیل رولز کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
- آرٹیکل 10-اے (منصفانہ ٹرائل) کی خلاف ورزی: حکومت کا کہنا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 10-اے ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل اور شفاف کارروائی کی ضمانت دیتا ہے، تاہم اس اہم مقدمے میں تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے بغیر ہی یکطرفہ طور پر آرڈر جاری کر دیا گیا۔
- عبوری مرحلے پر حتمی ریلیف: درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ کیس کے قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے کے سنجیدہ قانونی نکتے کو موخر کرتے ہوئے عبوری مرحلے پر ہی حتمی نوعیت کا ریلیف دے دیا گیا، جو کہ ضابطہ کار کے منافی ہے۔
📜 پس منظر
یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں اور دیگر فیملی ممبران کی ملاقات، ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان سمیت دیگر معالجین تک رسائی اور انہیں آئندہ سماعت تک اسلام آباد کے الشفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔
حکومت کی جانب سے دائر کردہ اس نظرثانی درخواست کے بعد اب اس معاملے پر قانونی رسہ کشی میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔




