اسلام آباد/ ٹیکنالوجی ڈیسک: عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے پاکستان میں اپنے پہلے مقامی دفتر کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں قائم ہونے والا یہ دفتر پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی سیکٹر کی ترقی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھولنے کے لیے ایک “گیم چینجر” ثابت ہوگا۔
📌 تقریب کی جھلکیاں
اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ پروقار تقریب میں:
- وزیراعظم شہباز شریف، گوگل کے نائب صدر ولسن وائٹ اور امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے شرکت کی۔
- اس موقع پر گوگل کے مقامی دفتر کی تختی کی نقاب کشائی کی گئی، جسے پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
📈 پاکستان کے لیے معاشی فوائد
گوگل کی پاکستان میں براہِ راست موجودگی کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حکومتِ پاکستان آئی ٹی سیکٹر کو ملکی معیشت کا انجن بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
- ماضی کا اثر: گوگل کے پلیٹ فارمز نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کی معیشت میں 3.9 ٹریلین روپے سے زائد کا کردار ادا کیا ہے، جبکہ اس دوران 9 لاکھ 60 ہزار سے زائد ملازمتوں کی فراہمی میں مدد دی ہے۔
- مستقبل کا ہدف: یہ دفتر “ڈیجیٹل نیشن پاکستان” کے وژن کو تقویت دے گا اور پاکستان کے لیے مقرر کردہ 30 ارب ڈالر کی سالانہ آئی ٹی برآمدات کے ہدف کو حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
💡 نوجوانوں کے لیے مواقع اور کروم بکس کی اسمبلنگ
گوگل کے اس دفتر کا قیام صرف ایک انتظامی قدم نہیں بلکہ پاکستان میں ٹیکنالوجی کے کلچر کو فروغ دینے کا عزم بھی ہے۔
- ڈیجیٹل اسکلز: گوگل نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت فراہم کرنے کے منصوبوں پر کام کرے گا۔
- مقامی اسمبلنگ: ایک انتہائی اہم فیصلہ 5 لاکھ کروم بکس (Chromebooks) کی پاکستان میں مقامی سطح پر اسمبلنگ کا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف مقامی سطح پر ٹیکنالوجی کی دستیابی کو آسان بنائے گا بلکہ مستقبل میں ان کروم بکس کو دیگر ممالک میں برآمد کر کے زرمبادلہ کمانے کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
گوگل کے دفتر کے قیام سے پاکستان میں آئی ٹی سرمایہ کاری، نئے اسٹارٹ اپس اور ایپ ڈویلپرز کے لیے بین الاقوامی سطح کے مواقع پیدا ہوں گے، جو ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔




