اسلام آباد/ قانونی ڈیسک: بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے دائر کی جانے والی نظرثانی درخواست پر قانونی رکاوٹ سامنے آ گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست پر تکنیکی اعتراض عائد کرتے ہوئے اسے واپس کر دیا ہے۔
📌 اعتراض کی بنیادی وجہ کیا بنی؟
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کردہ اعتراض میں بتایا گیا ہے کہ:
- پیپر بکس نامکمل: نظرثانی درخواست کے ساتھ مطلوبہ پیپر بکس (Paper Books) مکمل منسلک نہیں کی گئی تھیں۔
- ترامیم اور دوبارہ دائرگی: متعلقہ اعتراضات دور کرنے اور ضروری ترامیم کے بعد اس درخواست کو دوبارہ باضابطہ طور پر دائر کیا جائے گا۔
📜 حکومتی نظرثانی درخواست کے اہم نکات
گزشتہ روز چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل کے توسط سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ:
- جیل رولز کی نظراندازی: سپریم کورٹ کا 18 اگست کا عبوری حکم پاکستان پرزن رولز 1978 کے رول 197 میں درج قیدی کی منتقلی کے باقاعدہ قانونی طریقہ کار سے تجاوز کرتا ہے۔
- آرٹیکل 10-اے (منصفانہ ٹرائل): درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ فریقین کو باقاعدہ نوٹس جاری کیے بغیر اور مقدمے کے قابلِ سماعت ہونے کے اہم نکتے کو مؤخر کر کے عبوری مرحلے پر حتمی نوعیت کا ریلیف دے دیا گیا۔
- طبی رپورٹس کا معاملہ: حکومت کا کہنا تھا کہ عدالت کو طبی و تکنیکی معاملات میں ماہرین کی رائے لینی چاہیے تھی، جبکہ بانی پی ٹی آئی کو پہلے ہی جیل میں تمام ضروری طبی سہولیات باقاعدگی سے فراہم کی جا رہی ہیں۔
اس تکنیکی اعتراض کے دور ہونے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت اس نظرثانی اپیل کو دوبارہ عدالتِ عظمیٰ میں دائر کرے گی، جس پر قانونی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔




