Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

📝 پرچے میں صفر نمبر؛ نویں جماعت کا ذہین طالب علم پشاور ہائیکورٹ پہنچ گیا، عدالت کا بورڈ سے پرچہ طلب

📝 پرچے میں صفر نمبر؛ نویں جماعت کا ذہین طالب علم پشاور ہائیکورٹ پہنچ گیا، عدالت کا بورڈ سے پرچہ طلب
Spread the love

پشاور/ تعلیمی ڈیسک: تعلیمی بورڈز کے نظام پر ایک بار پھر سوالیہ نشان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ پشاور میں نویں جماعت کے ایک پوزیشن ہولڈر اور ذہین طالب علم کو بیالوجی کے پرچے میں ‘صفر’ نمبر دیے جانے کا انوکھا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے خلاف طالب علم نے پشاور ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔ عدالت نے پشاور بورڈ کے کنٹرولر آف امتحانات کو متعلقہ پرچے سمیت طلب کر لیا ہے۔

📌 مقدمے کی تفصیلات اور پس منظر

پشاور ہائیکورٹ میں نویں جماعت کے طالب علم عبدالمعیز خان کی جانب سے دائر کی جانے والی رٹ پٹیشن پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔

  • شاندار اکیڈمک ریکارڈ: درخواست گزار کے وکیل امین الرحمن یوسفزئی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ طالب علم نے نویں جماعت کے امتحانات میں مجموعی طور پر ‘اے ون’ (A-1) گریড حاصل کیا ہے۔
  • بیالوجی کے نمبرز میں تضاد: طالب علم نے بیالوجی کے ایم ایس کیوز (MCQs) اور پریکٹیکل میں 25 میں سے 23 نمبر حاصل کیے ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر بیالوجی تھیوری کے پرچے میں اسے صریحاً صفر نمبر دے دیے گئے۔

⚖️ عدالت میں دلائل اور وکیل کا مؤقف

وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ جب طالب علم نے نمبروں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے ری چیکنگ کے لیے درخواست دی اور بورڈ سے اپنا پرچہ دکھانے کا مطالبہ کیا، تو بورڈ حکام کی جانب سے یہ کہہ کر انکار کر دیا گیا کہ اس سال ابھی تک کسی کو پرچہ دکھانے کے حوالے سے کوئی قانون یا رولز نہیں بنائے گئے۔

عدالت کے روبرو بحث کے دوران وکیل نے کہا کہ “میرا بیٹا نیسٹ (NUST) یونیورسٹی میں پڑھتا ہے، جہاں چیکنگ کے بعد طلبہ کو ان کے پرچے دکھائے جاتے ہیں۔” اس پر جسٹس بابر ستار نے بھی ریمارکس دیے کہ بیرون ملک بھی یہی نظام رائج ہے کہ چیکنگ کے بعد طالبعلم کو اس کا پرچہ دکھایا جاتا ہے تاکہ وہ مطمئن ہو سکے۔

🏛️ عدالت کا حکم

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پشاور بورڈ کے کنٹرولر آف امتحانات کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر طالب علم عبدالمعیز خان کا متنازعہ بیالوجی کا پرچہ عدالت میں پیش کریں تاکہ ججز خود اس کا جائزہ لے سکیں۔ پشاور ہائیکورٹ کے اس اقدام سے تعلیمی بورڈز میں شفافیت کے عمل پر ایک بار پھر اہم بحث چھڑ گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *