اسلام آباد/ قومی ڈیسک: وفاقی دارالحکومت کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت غیر فعال ہونے یا عدم دستیابی کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے حقائق اور ذمہ داری کے تعین کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
📌 انکوائری کمیٹی کی تشکیل اور اراکین
وزیراعظم کی جانب سے قائم کی جانے والی اس تحقیقاتی کمیٹی کے اہم اراکین درج ذیل ہیں:
- چیئرمین: سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اس کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔
- ممبران: سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن، بریگیڈیئر ڈاکٹر جہانزیب علی (اے ایف آئی سی)، ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیات ملک، پمز کے بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر عظمت حیات اور اے ایف آئی سی کے سی ٹی اینجیو ٹیکنیشن عمر فاروق کمیٹی میں شامل ہیں۔
🔍 کمیٹی کا دائرہ کار اور اہم ذمہ داریاں
تحقیقاتی کمیٹی درج ذیل امور کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی:
- تکنیکی صلاحیت اور وسائل: کمیٹی جانچے گی کہ آیا 2022 سے پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرام کرنے کی تکنیکی صلاحیت، انسانی وسائل اور سافٹ ویئر دستیاب تھے یا نہیں۔
- نجی مراکز کو ریفر کرنے کا معاملہ: اس بات کی تحقیقات ہوں گی کہ آیا مریضوں کو نجی طبی مراکز ریفر کرنے میں کسی مخصوص ادارے کو ترجیح دی گئی اور اس سے سرکاری اسپتال کا کتنا مالیاتی کاروبار نجی شعبے کی طرف موڑا گیا۔
- انتظامی بدانتظامی: پمز کے کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان عدم رابطہ کاری یا بدانتظامی کا جائزہ لے کر ذمہ دار افسران کا تعین کیا جائے گا۔




