لاہور/ کرائم رپورٹر: لاہور پولیس کے اندرونی احتساب اور تفتیش کے دوران ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جہاں پولیس اہلکاروں کے ٹارگٹ کلرز اور اسٹریٹ کریمنلز کے ساتھ گہرے روابط کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس کی جانب سے زیر حراست اہلکاروں سے کی جانے والی تفتیش میں اہم اور چونکا دینے والے شواہد ملے ہیں۔
📌 تفتیش کے اہم انکشافات
سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق:
- ٹارگٹ کلر کی پشت پناہی: زیر حراست پولیس اہلکار اسٹریٹ کرائم اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث مرکزی ملزم ‘ریحان’ کی مکمل پشت پناہی کر رہے تھے۔
- وارداتوں کا مکروہ دھندا: ملزم ریحان میٹرو بس میں سفر کے دوران موبائل فون چوری اور اسنیچنگ کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔
- محکمانہ اثر و رسوخ کا غلط استعمال: زیر حراست پولیس اہلکار اپنے محکمے اور یونٹس میں موجود اثر و رسوخ کو استعمال کر کے ریحان کی ضمانت پر رہائی اور اس کا مجرمانہ ریکارڈ ختم کروانے میں مدد فراہم کرتے رہے ہیں۔
- ملزمین کا عہدہ: اس مکروہ دھندے میں ملوث زیر حراست افراد میں ایک اے ایس آئی (جو کہ کریمنل ریکارڈ برانچ میں تعینات تھا) اور ایک کانسٹیبل (جو لوئر مال انویسٹی گیشن ونگ میں تعینات تھا) شامل ہیں۔
🔍 موجودہ کارروائی
پولیس حکام کے مطابق دونوں زیر حراست اہلکاروں کے ابتدائی بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں، جبکہ ان کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنے کے لیے موبائل فونز کا فرانزک تجزیہ بھی جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک میں شامل دیگر کالی بھیڑوں کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔




