لاہور/ سیاسی ڈیسک: رانا ثنا اللہ کی جانب سے جماعت اسلامی کے دھرنوں کو ناکام قرار دینے کے بیان پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا ردعمل سامنے آ گیا ہے. لاہور میں دھرنے کے 10 ویں روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتیں جب زوال کا شکار ہوتی ہیں تو وزراء کی جانب سے اسی نوعیت کے بیانات سامنے آتے ہیں.
📌 حکومت کو تنقید کا نشانہ اور مذاکرات سے متعلق مؤقف
- عوام کے لیے احتجاج: جماعت اسلامی اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ عوام کے مطالبات کے لیے احتجاج کر رہی ہے. حکومت کی جانب سے دھرنوں کو ناکام قرار دینا ان کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے.
- براہ راست مذاکرات کا مطالبہ: حکومتی مذاکراتی کمیٹی اسلام آباد میں بریفنگ دینے کے بجائے احتجاجی مقام پر آ کر براہ راست بات چیت کرے. جو بھی مذاکرات کرنا چاہتا ہے وہ یہاں آ کر بتائے کہ پیٹرولیم لیوی کب ختم ہوگی اور عوام کو ریلیف کیسے دیا جائے گا.
- اسلام آباد جانے سے انکار: جماعت اسلامی کسی حکومتی کمیٹی کی بریفنگ لینے اسلام آباد نہیں جائے گی. حکومت کو عوام کا مطالبہ سننا ہوگا، ورنہ مشکلات مزید بڑھیں گی.
📈 احتجاجی سرگرمیوں میں وسعت اور ہڑتال کا اعلان
- صوبائی کیمپوں کا قیام: احتجاجی کیمپ چاروں صوبوں میں قائم ہو چکے ہیں. 12 ربیع الاول کے بعد احتجاجی سرگرمیوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا.
- 13 ربیع الاول کو ہڑتال: 13 ربیع الاول کو ہڑتال کی کال دی جائے گی جبکہ دھرنے بھی جاری رہیں گے. آئندہ مرحلے میں اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا جائے گا.
- سڑکوں پر دھرنے کا سلسلہ: عوام کو ریلیف نہ ملا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا. مطالبات حل نہ ہونے کی صورت میں مختلف مقامات پر سڑکوں پر بیٹھنے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا.
💡 معاشی مشکلات اور ریلیف کے مطالبات
- بجلی اور ڈیزل کی قیمتیں: مہنگی بجلی اور ڈیزل نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے. صنعتوں کے لیے بجلی سستی کی جائے اور بجلی کے بلوں سے غیرضروری اور ناجائز ٹیکس ختم کیے جائیں.
- سرکاری اخراجات میں کمی: حکومت اپنے اخراجات کم کرے اور عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ نہ ڈالے.
⚖️ سرحد یونیورسٹی کے معاملے پر دوٹوک مؤقف
- آئین اور قانون کی پاسداری: ہر شخص کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے. واقعے میں جو بھی غلطی پر ہے، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے.
- فوج اور نوجوانوں کا اعتماد: شفاف تحقیقات سے فوج اور نوجوانوں کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہوگا. جو شخص کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے اور میرٹ پر تحقیقات کے بعد کارروائی ہونی چاہیے.




