ڈھاکا/ بین الاقوامی ڈیسک: بنگلادیش میں جمہوریت کی بحالی اور ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ ملک میں آج 35 برس بعد صدارتی انتخاب کے لیے حقیقی اور سخت مقابلے کی بنیاد پر ووٹنگ کا عمل دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک بنگلادیشی پارلیمنٹ (جاتیا سنگساد) میں منعقد ہوگا، جس میں 349 ارکانِ پارلیمنٹ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
📌 کون آمنے سامنے ہے؟
اس تاریخی صدارتی انتخاب میں بنیادی طور پر دو نامور سیاسی شخصیات مدمقابل ہیں:
- مرزا فخر السلام عالمگیر: حکمران جماعت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینئر رہنما اور 78 سالہ سیاستدان، جو طویل عرصے سے پارٹی کی قیادت کا اہم حصہ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل ہونے کی وجہ سے انہیں اس دوڑ میں سب سے مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔
- کرنل (ر) اولی احمد: جماعتِ اسلامی کے حمایت یافتہ 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی جانب سے نامزد کردہ سابق فوجی افسر اور سیاستدان۔ اگرچہ عددی اعتبار سے اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں کم برتری حاصل ہے، تاہم اس بار مقابلے نے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔
📜 صدارتی انتخاب کا پس منظر اور طریقہ کار
آئینی طریقہ کار کے مطابق بنگلادیش میں صدر کا انتخاب براہِ راست عوام کے بجائے اراکینِ پارلیمنٹ کرتے ہیں۔
- استعفے کا پس منظر: یہ انتخاب سابق صدر محمد شہاب الدین کے استعفے کے بعد کرایا جا رہا ہے، جنہیں معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کا قریبی ساتھی مانا جاتا تھا۔
- حلف برداری: بنگلادیشی میڈیا کے مطابق آج کے انتخابی نتائج کے اعلان کے فوراََ بعد کامیاب امیدوار جمعہ کی شام ‘بنگابھون’ میں نئے صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، جس کے ساتھ ہی صدارتی مدت کا باضابطہ آغاز ہو جائے گا۔
مبصرین اس انتخاب کو ملک میں جمہوری روایات کی بحالی اور سیاسی استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔




