تاریخ / مقام: اسلام آباد / لاہور
ایوی ایشن ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
برطانوی امیگریشن ٹیم نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد اور لاہور بین الاقوامی ایئرپورٹس کا دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے برطانیہ جانے والے مسافروں کے چیک ان کے دوران کے تمام مراحل کا تفصیلی جائزہ لیا اور مطمئن نہ ہونے پر کئی مسافروں کو پرواز سے آف لوڈ کرا دیا۔
پی آئی اے پرواز کی چیک ان مانیٹرنگ اور پوچھ گچھ
سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق برطانوی امیگریشن ٹیم کے ہمراہ برطانوی سفارت خانے کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ ٹیم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پرواز پی کے 757 (PK-757) کے مسافروں کے تمام مراحل کا خود مشاہدہ کیا۔ اس دوران برطانوی ٹیم نے مسافر علی عمران سمیت دیگر مسافروں سے خود سوالات کیے، اور جن مسافروں کے جوابات سے وہ مطمئن نہیں ہو سکے، انہیں طیارے سے آف لوڈ کر دیا گیا۔ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی غیر ملکی ٹیم نے ایئرپورٹ پر اس طرح مسافروں سے براہ راست پوچھ گچھ کر کے انہیں آف لوڈ کرنے کا اقدام کیا ہے۔
رپورٹس کی ارسال اور سہولیات کا جائزہ
واقعے کے بعد پی آئی اے، سول ایوی ایشن اور پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے وہ افسران جو برطانوی ٹیم کے ہمراہ تھے، انہوں نے اس پورے واقعے کی تفصیلی رپورٹس اپنے اپنے اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی ہیں۔ اس دورے کے دوران برطانوی امیگریشن حکام نے پاکستان سے برطانیہ جانے والی براہ راست پروازوں، مسافروں کو فراہم کردہ امیگریشن و دیگر سہولیات اور کارگو کے نظام کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ایئرپورٹ اتھارٹی، سی اے اے اور پی آئی اے حکام نے اس موقع پر برطانوی ٹیم کو اپنے اداروں کی جانب سے کیے جانے والے انتظامی اور حفاظتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
کراچی ایئرپورٹ کا دورہ اور حتمی رپورٹ
ذرائع کے مطابق برطانوی امیگریشن ٹیم اب اپنے اس دورے کے اگلے مرحلے میں کراچی ایئرپورٹ کا بھی دورہ کرے گی، جس کے بعد وہ اس پورے دورے کی مفصل رپورٹ اپنے اعلیٰ اداروں کو پیش کرے گی۔ اس رپورٹ میں برطانوی ٹیم کی جانب سے جن جن خامیوں یا سقم کی نشاندہی کی جائے گی، ایئرلائنز اور متعلقہ ملکی اداروں کو انہیں فوری طور پر دور کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔
G24 News Online ایوی ایشن سیکٹر، سفارتی امور اور مسافروں کے حقوق سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




