ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

بلاگ

بچوں میں اسکرین ٹائم کا بڑھتا رجحان — سہولت یا خاموش خطرہ؟

بچوں میں اسکرین ٹائم کا بڑھتا رجحان — سہولت یا خاموش خطرہ؟
Spread the love

تحریر و تحقیق۔۔صالحہ کامران

موبائل فون، ٹیبلٹ اور ٹی وی آج بچوں کی روزمرہ زندگی کا ایک عام حصہ بن چکے ہیں۔ تعلیم سے لے کر تفریح تک، بچوں کا ایک بڑا وقت اسکرین کے سامنے گزرتا ہے۔کچھ والدین کا موں کی مصروفیت میں بچوں کی ذمہ داری بٹانے کے لیے بھی سکرین کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بچوں کے لیے بڑھتا ہوا اسکرین ٹائم واقعی ایک سہولت ہے، یا اس کے کچھ ایسے اثرات بھی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا؟

ماہرین کے مطابق اسکرین کا ضرورت سے زیادہ استعمال بچوں کی نیند، جسمانی سرگرمی، توجہ اور روزمرہ معمولات کو متاثر کر سکتا ہے۔ خاص طور پر جب بچہ کھیلنے، باہر وقت گزارنے یا خاندان کے ساتھ گفتگو کرنے کے بجائے مسلسل موبائل یا ٹی وی میں مصروف رہے تو اس کے معمولات میں واضح تبدیلی آ سکتی ہے۔

چھوٹے بچوں کے لیے یہ مسئلہ مزید اہم ہو جاتا ہے۔ والدین اکثر مصروفیت کے دوران بچے کو موبائل فون یا کارٹون دے دیتے ہیں تاکہ بچہ کچھ دیر مصروف رہے۔ بظاہر یہ ایک آسان حل محسوس ہوتا ہے، لیکن اگر یہی عادت روزانہ کئی گھنٹوں تک جاری رہے تو بچے کے لیے اسکرین سے دور رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔

بچوں میں سکرین کی زیادتی کی وجہ سے ہونے والے بیماریوں میں سپیچ ڈیلے , وٹامن ڈی کی کمی ، نظر کی کمزوری، توجہ اور رویے کے مسئلے اور نیند کے مسائل شامل ہیں۔

اس کے باوجود ہر قسم کا اسکرین ٹائم نقصان دہ نہیں۔ تعلیمی ویڈیوز، عمر کے مطابق معیاری پروگرام اور والدین کی نگرانی میں محدود استعمال بچوں کے لیے سیکھنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اصل مسئلہ اسکرین کا غیر متوازن اور بے قابو استعمال ہے۔

ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کے لیے عمر کے مطابق اسکرین کی حدود مقرر کی جائیں، کھانے کے وقت اور سونے سے پہلے اسکرین سے گریز کیا جائے اور بچوں کو جسمانی کھیل، کتابوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کی ترغیب دی جائے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ موبائل فون کو بچوں کی پرورش کا متبادل بنانے کے بجائے ایک محدود اور ذمہ دارانہ ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے۔ کیونکہ بچے کے ہاتھ میں موجود اسکرین صرف اس کا وقت نہیں لے رہی ہوتی، بلکہ وہ اس کی عادات، سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی کو بھی تشکیل دے رہی ہوتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *