ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

صحت

ذیابیطس کی ابتدائی علامات: شوگر کی بیماری کو کیسے پہچانیں اور اس سے کیسے بچیں؟

ذیابیطس کی ابتدائی علامات: شوگر کی بیماری کو کیسے پہچانیں اور اس سے کیسے بچیں؟
Spread the love

تحریر و تحقیق ۔۔ صالحہ کامران

ذیابیطس یا شوگر ایک ایسی بیماری ہے جس میں خون میں گلوکوز کی سطح معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جسم مناسب مقدار میں انسولین نہیں بنا پاتا یا انسولین کو مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر سکتا۔ انسولین ایک ہارمون ہے جو خون میں موجود گلوکوز کو جسم کے خلیوں تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذیابیطس صحتِ عامہ کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ بعض افراد کو طویل عرصے تک اپنی بیماری کا علم نہیں ہوتا، کیونکہ ابتدائی علامات ہلکی یا غیر واضح ہو سکتی ہیں۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے بیماری کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور پیچیدگیوں کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔

شوگر کی اہم اور ابتدائی علامات

​ذیابیطس کے شکار ہونے پر جسم میں کچھ خاص تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے:

  • ​بار بار پیشاب آنا (Polyuria): خون میں شکر کی زیادتی کی وجہ سے گردے اضافی گلوکوز کو خارج کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے بار بار واش روم جانے کی حاجت ہوتی ہے۔
  • ​شدید پیاس اور منہ کا سوکھنا: بار بار پیشاب آنے کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے، جس کے باعث پیاس شدت سے لگتی ہے۔
  • ​اچانک وزن میں کمی: اگر آپ نے بغیر کسی ورزش یا ڈائٹ پلان کے اچانک وزن میں تیزی سے کمی محسوس کی ہے، تو یہ ٹائپ 1 یا ٹائپ 2 ذیابیطس کی علامت ہو سکتی ہے۔
  • ​ہر وقت تھکن اور کمزوری رہنا: جسم خلیات (cells) تک گلوکوز کو توانائی کے لیے استعمال نہیں کر پاتا، جس کی وجہ سے ہمیشہ نڈھال پن اور سستی طاری رہتی ہے۔
  • ​دھندلا دکھائی دینا: خون میں شوگر کی بلند سطح آنکھوں کے لینس میں سیال کو متاثر کرتی ہے، جس سے نظر کمزور یا دھندلا جاتی ہے۔
  • ​زخموں کا دیر سے بھرنا: ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ سرکولیشن اور مدافعتی نظام متاثر ہوتا ہے، اس لیے چھوٹے موٹے کٹس یا زخم بھرنے میں طویل وقت لیتے ہیں۔
  • ​ہاتھوں اور پیروں کا سن ہونا: اعصاب (nerves) متاثر ہونے کی وجہ سے اکثر ہاتھوں اور پیروں میں سوئیاں چبھنے کا احساس یا سن پن محسوس ہوتا ہے۔

ذیابیطس ہونے کے اہم عوامل
ذیابیطس کی مختلف اقسام ہوتی ہیں اور ان کی وجوہات بھی مختلف ہو سکتی ہیں۔
ٹائپ 1 ذیابیطس میں جسم کا مدافعتی نظام انسولین بنانے والے خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ بیماری مختلف عمروں میں ہو سکتی ہے اور اس سے بچاؤ کا کوئی ثابت شدہ عام طریقہ موجود نہیں۔

ٹائپ 2 ذیابیطس میں جسم انسولین کو مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا یا وقت کے ساتھ انسولین کی پیداوار ناکافی ہو جاتی ہے۔ اس کے اہم عوامل میں شامل ہیں:
خاندان میں ذیابیطس کی تاریخ۔
جسمانی وزن کا زیادہ ہونا، خصوصاً پیٹ کے گرد چربی۔
جسمانی سرگرمی کی کمی۔
عمر میں اضافہ۔
پہلے حمل کے دوران ذیابیطس ہونا یا بعض دیگر طبی عوامل۔
یہ بات یاد رکھیں کہ ذیابیطس صرف میٹھی چیزیں کھانے سے نہیں ہوتی۔ اس بیماری میں جینیاتی، جسمانی اور طرزِ زندگی سے متعلق متعدد عوامل کردار ادا کرتے ہیں۔

ذیابیطس کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
صرف علامات کی بنیاد پر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ کسی شخص کو ذیابیطس ہے یا نہیں۔ اس کی تصدیق کے لیے خون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
فاسٹنگ بلڈ گلوکوز ٹیسٹ: کم از کم آٹھ گھنٹے کے روزے کے بعد خون میں شوگر کی سطح جانچی جاتی ہے۔
HbA1c ٹیسٹ: یہ گزشتہ تقریباً دو سے تین ماہ کے دوران خون میں شوگر کی اوسط سطح کے بارے میں معلومات دیتا ہے۔
رینڈم بلڈ گلوکوز ٹیسٹ: دن کے کسی بھی وقت خون میں شوگر کی سطح جانچی جا سکتی ہے، خصوصاً جب واضح علامات موجود ہوں۔

عام طور پر ذیابیطس کی تشخیص کے لیے فاسٹنگ گلوکوز 126 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر یا اس سے زیادہ، HbA1c 6.5 فیصد یا اس سے زیادہ، یا دو گھنٹے کے گلوکوز ٹیسٹ میں 200 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر یا اس سے زیادہ ہونا اہم تشخیصی معیار ہیں۔ واضح علامات نہ ہونے کی صورت میں عموماً دوسرے ٹیسٹ سے نتیجے کی تصدیق کی جاتی ہے۔ ان نتائج کی تشریح ڈاکٹر مریض کی صورتِ حال کے مطابق کرتا ہے۔

ذیابیطس سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر

​صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر آپ شوگر کے خطرے کو کافی حد تک کم یا کنٹرول کر سکتے ہیں:

  • ​متوازن اور صحت بخش غذا: اپنی خوراک میں فائبر سے بھرپور اشیاء (سبزیاں، پھل، دلیہ اور دالیں) شامل کریں۔ سفید آٹے، چینی اور فاسٹ فوڈ کا استعمال کم سے کم کریں۔
  • ​باقاعدہ ورزش: روزانہ کم از کم 30 منٹ کی تیز واک (چہل قدمی)، دوڑ یا ہلکی ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔ جسمانی سرگرمی انسولین کی افادیت کو بڑھاتی ہے۔
  • ​وزن کو کنٹرول میں رکھنا: موٹاپا ذیابیطس کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ جسمانی وزن کو متوازن رکھنا شوگر سے بچاؤ کی پہلی سیڑھی ہے۔
  • ​پانی کا زیادہ استعمال: میٹھے ڈرنکس اور کولڈ ڈرنکس کی بجائے دن بھر میں وافر مقدار میں پانی پیئیں۔
  • ​تناؤ سے گریز: ذہنی دباؤ (Stress) ہارمونز کے ذریعے بلڈ شوگر لیول کو بڑھا سکتا ہے۔ یوگا، گہرے سانس لینے کی مشقیں یا پسندیدہ مشاغل کو وقت دیں۔
  • ​باقاعدہ میڈیکل چیک اپ: سال میں کم از کم ایک بار اپنے خون میں شوگر کی سطح (HbA1c یا Fasting Blood Sugar) کی جانچ ضرور کروائیں۔

کن علامات میں فوری طبی مدد ضروری ہے؟
اگر شدید پیاس اور بار بار پیشاب کے ساتھ الٹی، پیٹ میں درد، تیز یا گہری سانسیں، پھل جیسی بو والی سانس یا غیر معمولی غنودگی ہو تو فوری ایمرجنسی طبی مدد حاصل کریں۔ یہ ذیابیطس کی ایک خطرناک پیچیدگی، خصوصاً ذیابیطس کیٹوایسیڈوسس، کی علامات ہو سکتی ہیں۔ یہ کیفیت بعض اوقات ذیابیطس کی پہلی نمایاں علامت بھی بن سکتی ہے۔
نتیجہ
ذیابیطس کی ابتدائی علامات کو پہچاننا اور بروقت ٹیسٹ کروانا صحت کی حفاظت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ بار بار پیاس لگنا، پیشاب کی زیادتی، غیر ارادی وزن میں کمی، مسلسل تھکاوٹ اور نظر دھندلی ہونا ایسی علامات ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب وزن اور طبی مشورے سے ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے یا بیماری کو بہتر انداز میں کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اہم پیغام: اگر آپ میں ذیابیطس کی علامات موجود ہیں تو خود سے دوا شروع کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کریں اور مناسب ٹیسٹ کروائیں۔ بروقت تشخیص مستقبل میں گردوں، آنکھوں، دل اور اعصاب سے متعلق پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *