تاریخ / مقام: اسلام آباد / راولپنڈی
فیکٹ چیک ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے فیک چیکنگ یونٹ نے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں جاری میچ کے دوران کسی آرمی افسر کی دل کا دورہ پڑنے سے ہلاکت کے حوالے سے پھیلنے والی خبروں کو مکمل طور پر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ (X) پر جاری کردہ باضابطہ بیان میں وزارتِ اطلاعات کے فیک چیکر نے واضح کیا کہ راولپنڈی اسٹیڈیم میں پاکستان اور سری لنکا کے میچ کے دوران نہ تو کوئی آرمی افسر فوت ہوا ہے اور نہ ہی اس واقعے کا کرکٹ میچ سے کوئی تعلق ہے۔
حقیقت کیا ہے؟ (تفصیلی انکشافات)
گردش کرنے والی گمراہ کن خبروں کے برعکس اصل حقائق یہ ہیں:
- پی سی بی کا ملازم: فیکٹ چیک کے مطابق متوفی شخص دراصل پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کا ایک ملازم تھا، جو اس افسوسناک واقعے کے وقت اسٹیڈیم میں موجود ہی نہیں تھا۔
- کرنٹ لگنے سے وفات: پولیس ایف آئی آر اور اسپتال کے ریکارڈ کے مطابق 60 سالہ فاروق کی موت میچ کے دوران نہیں بلکہ گھر پر بجلی کا پلگ چیک کرتے وقت کرنٹ لگنے سے واقع ہوئی۔
- اسپتال منتقلی: کرنٹ لگنے کے بعد اہل خانہ نے ریسکیو 1122 کی مدد سے انہیں فوری طور پر راولپنڈی کے بے نظیر بھutto اسپتال منتقل کیا تھا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔
جعلی دعوے کی حقیقت
واضح رہے کہ ایک سوشل میڈیا صارف اور صحافی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ 50 سالہ محمد فاروق میچ کے دوران بے ہوش ہو گئے تھے اور وہ اسلام آباد میں سیکیورٹی ایجنسی سے وابستہ پاکستان آرمی کے افسر تھے۔ وزارتِ اطلاعات کی جانب سے اس دعوے کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ متوفی کا پاک فوج سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
حکام نے عوام اور سوشل میڈیا صارفین سے شدید اپیل کی ہے کہ بغیر تصدیق کے اس قسم کی فرضی طبی ایمرجنسیز کو کھیلوں کے مقابلوں اور حساس اداروں سے جوڑنے والے گمراہ کن دعوے ہرگز شیئر نہ کریں۔
G24 News Online حقائق کی جانچ، مستند معلومات، اور تمام اہم قومی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




