بانگی/ بین الاقوامی ڈیسک: وسطی افریقی جمہوریہ میں کیمرون کی سرحد کے قریب سونے کی ایک غیر قانونی کان زمین بوس ہونے کا ایک بڑا اور ہولناک المیہ پیش آیا ہے۔ اس دل دہلا دینے والے حادثے کے نتیجے میں 100 سے زائد کان کن جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ درجنوں افراد کے زخمی اور لاپتہ ہونے کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
📌 حادثہ کہاں اور کیسے پیش آیا؟
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ نانا مامبیرے صوبے کے گاؤں زامبوئے میں پیش آیا، جو کہ بابوا قصبے سے تقریباً 50 کلومیٹر دور اور کیمرون کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
- کان میں اچانک زمین کھسکنے اور زیرِ زمین سرنگوں کے منہدم ہونے سے وہاں کام کرنے والے درجنوں غریب مزدور مٹی کے تودے تلے دب گئے۔
🩺 امدادی کارروائیاں اور جانی نقصان
- اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو: حادثے کے فوراً بعد ریڈ کراس کے رضاکاروں اور مقامی رہائشیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔
- ہلاکتیں سو سے متجاوز: ابتدائی مرحلے میں درجنوں لاشیں نکالی گئی تھیں، تاہم بعد ازاں امدادی ذرائع نے تصدیق کی کہ مرنے والوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی ہے۔ متعدد شدید زخمیوں کو قریبی طبی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
⚠️ غیر منظم کان کنی اور ماضی کے سیاہ باب
وسطی افریقی جمہوریہ میں شدید غربت اور بے روزگاری کے باعث ہزاروں افراد زندگی خطرے میں ڈال کر ایسے غیر منظم اور غیر محفوظ مقامات پر کان کنی کرنے پر مجبور ہیں۔ یہاں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کے باعث ایسے مہلک حادثات بار بار رونما ہوتے رہتے ہیں۔
- پچھلے حادثات: افریقی خطے میں کان کنی کے حادثات نئی بات نہیں؛ رواں سال مئی میں اسی صوبے کے ایک اور کان کنی کے مقام پر شافٹ گرنے سے 23 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جبکہ جون میں کونییمے کے مقام پر مٹی کا تودہ گرنے سے 8 کان کن ہلاک ہوئے تھے۔ اسی طرح 2013 اور 2014 میں بھی نڈاسیما کی کان میں ایسے بڑے حادثات میں درجنوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
حکومت نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، جبکہ پڑوسی ملک کیمرون کی جانب سے بھی طبی امداد کی پیشکش کی گئی ہے۔




