لندن/قومی ڈیسک: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ آئینی تقاضے پورے ہونے اور پارلیمنٹ سمیت متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی دو تہائی اکثریت کی منظوری کے بعد ہی ملک میں نئے صوبوں کا قیام ممکن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات لندن میں میڈیا نمائندگان سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
📌 نئے صوبوں کے قیام سے متعلق آئینی اور پارلیمانی تقاضے
- دو تہائی اکثریت اور اتفاقِ رائے: وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ جب بھی پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیاں متفقہ طور پر یا دو تہائی اکثریت کے ساتھ فیصلہ کریں گی، تب ہی ملک میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبے وجود میں آ سکیں گے۔
- آئینی عمل: انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئے صوبوں کا بننا کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ یہ ایک باقاعدہ آئینی اور پارلیمانی عمل ہے جو قانون کے دائرے میں رہ کر ہی مکمل ہوتا ہے۔
🗳️ آزاد کشمیر کے انتخابات اور وزیرِ اعظم کے انتخاب کا فیصلہ
- پرامن انتخابات: آزاد کشمیر کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وہاں سب سے بڑا چیلنج بروقت اور شفاف انتخابات کا انعقاد تھا، جو بالآخر پرامن طریقے سے کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیے گئے۔
- نواز شریف کا اختیار: انہوں نے ایک سوال کے جواب میں انکشاف کیا کہ آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم کے انتخاب کا حتمی اختیار مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے پاس تھا۔
🤝 اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت اور سیاسی استحکام
- بات چیت کا راستہ: ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان بارہا اپوزیشن کو سیاسی مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔
- حکومت کے دروازے کھلے: انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں جاری سیاسی کشمکش کے خاتمے اور استحکام کے لیے بات چیت کا راستہ ہی سب سے بہترین حل ہے، جس کے لیے حکومت نے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔




