تاریخ / مقام: اسلام آباد / نئی دہلی
بیورو رپورٹ — G24 News Online
تفصیل:
پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) میں بھارتی بحری جہاز کی جانب سے انتہائی اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ اقدام سامنے آیا ہے، جہاں بھارتی بحری جہاز نے پاکستانی جہاز کو ٹکر مار دی۔ اس سنگین واقعے پر دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
بھارتی ناظم الامور کی طلبی اور احتجاج
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، وزارت خارجہ میں بھارتی ناظم الامور کو واضح کیا گیا کہ پاکستان بھارتی بحری جہاز کے اس اشتعال انگیز اور ناقابل قبول اقدام کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے زور دیا ہے کہ بھارت بین الاقوامی قوانین اور دو طرفہ معاہدوں، بالخصوص سمندر میں اس طرح کے پُرتشدد اور خطرناک واقعات سے بچنے کے لیے طے پانے والے معاہدوں کی مکمل پاسداری کرے۔ دریں اثنا، بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ناظم الامور بھی بھارتی وزارتِ خارجہ امور میں اسی نوعیت کا سخت ڈی مارش پیش کریں گے۔
سی اسپارک 26 مشقیں اور بھارتی مداخلت
دفتر خارجہ سے جاری تفصیلی بیان کے مطابق، پاک بحریہ یکم ستمبر سے پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں اپنی باقاعدہ مشقیں ‘سی اسپارک 26’ کر رہی ہے۔ 7 ستمبر سے بھارتی بحری جہاز اور اس پر تعینات ہیلی کاپٹر مسلسل پاک بحریہ کی مشقوں کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارتی بحری جہاز ‘آئی این ایس کولکتہ’ نے پاک بحریہ کے جہازوں کے قریب خطرناک اور اشتعال انگیز حرکات کیں۔ یہ بھارتی اقدامات نہ صرف معمول کی تعیناتی کے منافی ہیں بلکہ 1991ء کے دوطرفہ معاہدے کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں، جبکہ متعدد بار انتباہ کے باوجود بھارتی بحری جہاز نے اپنی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔
تصادم کا واقعہ اور بھارتی جہاز کا فرار
واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے دفتر خارجہ نے انکشاف کیا کہ 15 ستمبر کو آئی این ایس کولکتہ نے انتہائی خطرناک انداز میں اپنا رخ تبدیل کیا اور پاک بحریہ کے جہاز ‘پی این ایس حنین’ سے ٹکرا گیا۔ پی این ایس حنین کی جانب سے تصادم سے بچنے کی تمام ممکنہ کوششیں کی گئیں تاہم بھارتی جہاز کے ساتھ رگڑ کا واقعہ پیش آ ہی گیا۔ واقعے کے فوراً بعد آئی این ایس کولکتہ نے اپنی رفتار بڑھائی اور موقع سے بھاگ نکلا۔
پاکستان کا سخت انتباہ اور مؤقف
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی بحری جہاز کا یہ اقدام انتہائی اشتعال انگیز تھا اور اس سے خطے میں ایک سنگین بحران پیدا ہو سکتا تھا۔ تاہم، پاک بحریہ کے پیشہ ورانہ اور انتہائی ذمہ دارانہ طرزِ عمل نے صورت حال کو مزید بگڑنے سے بچا لیا۔ پاکستان بھارتی بحریہ کی ان مسلسل خلاف ورزیوں کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت حقائق کو مسخ کرکے معاملے کو سفارتی سطح پر الجھانے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ علاقائی امن کو متاثر کرنے کی دانستہ کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔ بھارت دوطرفہ معاہدوں اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی پابندی کرے اور ایسے واقعات کو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔ دفتر خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ پاکستان مستقبل میں کسی بھی بھارتی اشتعال انگیزی کے سامنے موجودہ سطح کا ضبط یا تحمل یقینی نہیں سمجھے گا۔
G24 News Online دفاعی امور، قومی سلامتی اور سفارتی پیشرفت سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




