تہران/ بین الاقوامی ڈیسک: ایران نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو موجودہ دور کے بہترین مراحل میں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ روابط میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی آرمی چیف کا دورہ تہران باہمی تعاون اور مشترکہ امور پر مکمل توجہ مرکوز رکھے گا۔
📌 پاک-ایران تعلقات اور آرمی چیف کا دورہ
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران اہم تفصیلات سے آگاہ کیا:
- تعلقات کا بہترین دور: ترجمان کے مطابق اس وقت ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات “بہترین مراحل میں سے ایک” سے گزر رہے ہیں اور دونوں برادر ممالک باہمی تعاون اور علاقائی معاملات پر مسلسل رابطے میں ہیں۔
- دورے کا محور: پاکستانی آرمی چیف کا طے شدہ دورہ ایران دونوں ممالک کے باہمی تعلقات، سرحدی سیکیورٹی اور مشترکہ امور پر گہرے فوکس کے ساتھ ہوگا۔
⚠️ علاقائی صورتحال اور جنگ کے خاتمے سے متعلق ایرانی مؤقف
خطے کی کشیدہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ:
- خودمختاری کا دفاع: تہران نے خود جنگ شروع نہیں کی بلکہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا بھرپور دفاع کیا ہے۔
- شرائط قبول کرنے سے انکار: ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے مخالفین کی عائد کردہ شرائط قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی جارح فریق کو یہ اجازت دی جائے گی کہ وہ جنگ کے خاتمے کی شرائط خود طے کرے۔ ملکی ادارے خودمختاری کے تحفظ کے لیے مکمل پرعزم ہیں۔
🚨 بلغاریہ کو سخت انتباہ
ایرانی ترجمان نے بلغاریہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی امریکی کارروائی یا سازش میں تعاون سے گریز کرے:
- اگر کوئی ملک ایران کے خلاف جارحانہ کارروائی میں تعاون کرتا ہے تو وہ بھی جارحیت کے زمرے میں آئے گا۔
- ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایسی کسی بھی جارحیت کی صورت میں اس کے منبع کو نشانہ بنائے۔




